info@fatwaaonline.com.pk
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
فتویٰ آن لائن

فتویٰ آن لائن

دارالافتاء





تیسری طلاق کال پر دینے کے بعد شوہر کا انکارکرنا


سوال: میرے والد نے میری والدہ مسماۃ کو پہلے دو طلاقیں دے دیں تھیں، پھر رجوع کرلیا تھا، پھر اب مجھے بذریعہ کال پر گواہ بنا کر تیسری طلاق دے دی۔لیکن اب والد انکار کررہے ہیں۔ اب شرعی حکم کیا ہے؟


جواب:

بر تقدیرِ صحتِ واقعہ صورتِ مسئولہ میں اگر والدہ کو بیٹے کی بات پر یقین ہے تو اس کیلئےاب اپنے شوہر خضر حیات خان کے ساتھ آباد ہونا شرعاً جائز نہیں ہے، لیکن چونکہ شوہر اس کا منکر ہے، اس لئے جب تک وہ طلاق کا اقرار نہ کرلے یا بذریعہ خلع یا عدالت علیحدگی کی ڈگری لےلی جائے، تب تک ظاہرہ اختر عدت گزار کر آگے نکاح نہیں کرسکتی۔

 لما في تبيين الحقائق:

 والمرأة كالقاضي لا يحل لها أن تمكنه إذا سمعت منه ذلك أو شهد به شاهد عدل عندها

 (التبيين مع حاشية الشلبي، كتاب الطلاق، باب الطلاق ضربان، 2/ 198 ط: المطبعة الكبرى الأميرية)

 فقط واللہ اعلم

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 307202610245

فتویٰ آن لائن


تیسری طلاق کال پر دینے کے بعد شوہر کا انکار: نکاح برقرار ہے یا ختم؟ #تیسری_طلاق #طلاق_کا_انکار #رجوع_کے_بعد_طلاق #کال_پر_طلاق #عدت_کا_حکم #خلع_اور_عدالت #اسلامی_خاندانی_مسائل #دارالافتاء #فقہی_رہنمائی #شرعی_فیصلہ