info@fatwaaonline.com.pk
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
فتویٰ آن لائن

فتویٰ آن لائن

دارالافتاء





ورثاء میں 6بیٹیاں، جبکہ ساتویں پہلے وفات پاجائے ، ۲ بھائی، ۳ بہنیں ہوں تو وراثت کی تقسیم کا طریقہ


سوال: ایک عورت وفات پاگئی ہیں۔ورثاء میں ۷ بیٹیاں ہیں، جن میں سے ایک بیٹی مرحومہ کی زندگی میں ہی وفات پاگئی تھی۔ چھ بیٹیاں زندہ ہیں، ۲ بھائی اور ۳ بہنیں ہیں۔مرحومہ کے شوہر اور والدین کا انتقال زندگی میں ہی ہوگیا تھا۔ہر ایک شرعی حصہ بتادیں۔


جواب:

مسئلہ3/63 مضروب21 (متوفیہ)

میتــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

  بیٹی ۔بیٹی۔ بیٹی۔ بیٹی۔ بیٹی ۔بیٹی ۔بہن۔ بہن۔ بہن۔ بھائی۔ بھائی

  7 ۔7 ۔7 ۔7 ۔7 ۔7 ۔3 ۔3 ۔3 ۔6۔ 6

 بر تقدیرِ صحتِ واقعہ صورت مسئولہ میں بعد ادائے قرض و وصیتِ جائزہ امير مائى(مرحومہ) کا کل ترکہ 63 حصے ہو کر حسبِ تفصیلِ بالا تقسیم ہوگا، ہر وارث کا حصہ اس کے نام کے نیچے درج ہے۔مرحومہ کی زندگی میں فوت ہونے والی بیٹی مرحومہ کے ترکہ سے شرعاً محروم رہے گی؛کیونکہ وہ مورث سے پہلے وفات پاگئی ہے۔

لما في المبسوط للسرخسي:

 لِأَنَّ بَقَاءَ الْوَارِثِ بَعْدَ مَوْتِ الْمُوَرِّثِ شَرْطٌ لِوِرَاثَتِهِ عَنْهُ فَإِنَّ الْوِرَاثَةَ خِلَافَةٌ، وَالْحَيُّ يَخْلُفُ الْمَيِّتَ، فَأَمَّا الْمَيِّتُ فَلَا يَخْلُفُ الْمَيِّتَ

 (کتاب الفرائض، 11 / 43 ط: دارالمعرفة)

 ولما في رد المحتار:

 (قَوْلُهُ إنَّمَا يَكُونُ بَعْدَ الْمَوْتِ) لِأَنَّ كَوْنَهُمْ وَرَثَةً لَا يَتَحَقَّقُ إلَّا بَعْدَ مَوْتِ الْمُوَرِّثِ

 (الرد مع الدر، کتاب الفرائض، 6 / 687 ط: دارالفكر)

 فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 307202610238

فتویٰ آن لائن


مرحومہ کے ورثاء میں بیٹیوں اور بہن بھائیوں کے شرعی حصے #وراثت #بیٹیاں #بہنیں #بھائی #فقہ #شرعی_حصہ #مرحومہ