شرط نہیں پائی گئی تو حنث نہیں ہوگا, نیز طلاق سے بچنے کیلئے نکاح فضولی کے حیلے کی تفصیل
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ خالدہ کا نکاح فاطمہ سے ہوا، نکاح نامہ میں لڑکی والوں نے لکھوایا:"لڑکا بغیر بتائے کہیں رشتہ نہیں کریگامیری بیٹی کی موجودگی میں ، 10 یا 15 سال اولاد نہیں ہوئی تو بیوی کی مشاورت سے رشتہ کرے گا۔اگر بغیر بتائے رشتہ کرتا ہے تو اسکو تین طلاقیں ہونگی"۔ اب حال یہ ہے کہ لڑکی والے تین سال سے رخصتی نہیں کررہے۔ اب کہتے ہیں کہ طلاق دے دو۔ پوچھنا یہ ہے کہ اگر طلاق دے دوں تو اس کے بعد کہیں نکاح کروں گا تو طلاقیں واقع ہوجائیں گی یا نہیں؟ اگر ہوجائیں گی تو اس سے بچنے کا حَل کیا ہے؟
جواب:
بر تقدیرِصحتِ واقعہ صورتِ مسئولہ میں جب خالد نے بوقت نکاح خط کشیدہ الفاظ ادا كردئيےیا ان الفاظ کے لکھنے کی اجازت دی تو تعلیق منعقد ہوچکی ہے۔لہٰذا دوسری جگہ شائستہ کرن کی مشاورت سے نکاح کرے گا تو طلاقیں نہیں ہوں گی اور اگر بغیر بتائے کرے گا تو نکاح کرتے ہی اُس پر تین طلاقیں واقع ہوجائیں گی۔
لما في الفتاوى الهندية:
وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا
(كتاب الطلاق، الباب الرابع في الطلاق بالشرط، الفصل الثالث في تعليق الطلاق بكلمة إن۔۔۔، 1/ 420 ط:دارالفكر)
اس سے بچنے کے دو طریقے ہیں؛ایک نکاح فضولی والا کہ کوئی اس کا نکاح اس کی اجازت کے بغیر کسی لڑکی سے کردے ، جب اسے علم ہوتو زبان سے خیر مبارک یا اجازت ہے وغیرہ کوئی جملے ادا نہ کرے، بلکہ حق مہر اس لڑکی کو بھیج دے تو اسطرح اس پر کوئی طلاق واقع نہ ہوگی۔لیکن اس میں بہت احتیاط کی ضرورت ہے، اس لئے ماہر مفتی کی نگرانی میں یہ کرے۔
كما قال ابن نجيمؒ في الأشباه والنظائر:
حلف لا يتزوج؛ فالحيلة أن يزوجه فضولي ويجيز بالفعل، وكذا لا تتزوج
(الفن الخامس: الحيل، السابع في الطلاق، ص: 352 ط:دار الكتب العلمية)
وقال الحموي في شرحه:
وإنما لم يحنث بالإجازة بالفعل لأن المحلوف عليه وهو التزوج وهو عبارة عن العقد وهو يختص بالقول والإجازة بالفعل كبعث المهر وشيء منه، والمراد الوصول إليها. ذكره الصدر الشهيد - رحمه الله -. وقيل سوق المهر يكفي مطلقا لأن المجوزة الإجازة بالفعل وهو تحقق بالسوق وبعث الهدية لا يكون إجازة لأنها لا تختص بالنكاح
(غمز عيون البصائر في شرح الأشباه والنظائر، 4/ 229، 230 ط:دار الكتب العلمية)
و في الفتاوى البزازية:
وينبغي أن يجيئ إلى عالم يقول له ما حلف واحتياجاته إلى نكاح الفضولي فيزوجه العالم امرأة ويجيز بالفعل فلا يحنث وكذا إذا قال لجماعة لي حاجة إلى النكاح الفضولي فزوجه واحد منهم أما إذا قال لرجل أعقد لي عقد فضولي يكون توكيلاً
(البزازية على هامش الهندية،كتاب النكاح، 3/ 25ط:رشدية)
دوسرا طریقہ یہ ہے کہ فاطمہ کو بائنہ طلاق د یدےپھر، اس کی عدت گزرنے دے ، جب عدت گزر جائے اس کے بعد وہ کسی اور سے نکاح کرے گا تو بھی اس پر کوئی طلاق واقع نہ ہوگی؛کیونکہا جب وہ نکاح میں موجود ہی نہ رہی تو دوسری جگہ نکاح کرنے سے کوئی طلاق واقع نہ ہوگی۔
لما قال ابن عابدين في منحة الخالق:
عدم الحنث مطلقا لفقد الشرط
(المنحة على البحر مع تكملة الطوري، كتاب الأيمان، باب اليمين في الأكل والشرب، 4/ 365 ط:دار الكتاب الإسلامي)
فقط واللہ اعلم
فقط واللہ اعلم
فتوی نمبر : 428202610282
فتویٰ آن لائن