زندگی میں والد کی جانب سے جائیداد کی تقسیم اور قبضہ کی شرعی حیثیت
سوال: ہمارے والد محترم مسمیٰ ملک صادق نے اپنی تمام جائیداد اپنے دو بیٹوں اور تین پوتوں کے نام کردی ہے۔(جن میں سے صرف ایک بیٹا جو تقریباً چھ برس کا نابالغ ہے، باقی سب بالغ ہیں)اور ہر ایک کا حصہ متعین کرکے قبضہ بھی دے دیا ہے۔البتہ بیٹوں کی اجازت سے آمدنی خود لے کر تقسیم کرتے ہیں۔ آیا والد صاحب کا ایسا کرنا شرعاً درست ہے؟ جبکہ انھوں نے ہمیں (بیٹیوں کو) کچھ نہیں دیا۔
جواب:
واضح رہے کہ اگر کوئی انسان اپنی زندگی میں جائیداد تقسیم کرنا چاہے تو اس کیلئے حکم یہ ہے کہ اپنے لئے جتنا حصہ رکھنا چاہے رکھ لے، پھر بقیہ اموال بیٹے بیٹیوں میں برابری کی بنیاد پر تقسیم کرے، اور اگر بیٹے کو بیٹی کی بنسبت دوگنا دے تو اس کی بھی گنجائش ہے۔
لما في البحر الرائق:
وفي الخلاصة المختار التسوية بين الذكر والأنثى في الهبة
(البحر مع منحة الخالق وتكملة الطوري، كتاب الهبة، هبة الأب لطفلة، 7/ 288 ط:دارالكتاب الإسلامي)
ولما في قال العلامة ظفر احمد العثمانيؒ: أقول: الآثار المذكورة تدل على أن الصحابة فضلوا بعض أولادهم على بعض في العطية وهو يدل على جوازه
(اعلاء السنن، كتاب الهبة، باب جواز تفضيل بعض الأولاد۔۔۔ 16/93 ط:ادارة القرآن)
چونکہ قبضہ بھی دے دیا ہے تو اب بیٹے و پوتے اس کے مالک بن گئے ہیں، اور ایسا کرنے کی وجہ سے والد گناہ گار ہوا ہے، اور آخرت میں اس پر پکڑ ہوسکتی ہے؛کیونکہ کسی شرعی وارث کو اس کا حصہ بالکل نہ دینے یا کم دینے والے کے بارے میں بڑی سخت وعید آئی ہے،حتی کہ جناب نبی کریم ﷺ نے فرمایاکہ ایسے شخص کو قیامت کے دن اس کے جنت کے حصہ سے محروم کردیا جائے گا۔
قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من قطع ميراث وارثه قطع الله ميراثه من الجنة يوم القيامة»
(مشكاة المصابيح، کتاب الفرائض، الباب الثالث، 1/266ط: قدیمی)
اس لئے والد کو چاہیے کہ وہ اپنی اس کوتاہی پر خوب استغفار کرے اور اس کا تدارک و ازالہ کرے۔
فقط واللہ اعلم
فقط واللہ اعلم
فتوی نمبر : 307202610237
فتویٰ آن لائن