info@fatwaaonline.com.pk
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
فتویٰ آن لائن

فتویٰ آن لائن

دارالافتاء





وراثت میں ملی کتابوں پر زکوٰۃ کا شرعی حکم


سوال: میرے والد صاحب نے بیچنے کیلئے کتابیں چھپوائیں، پھر اللہ کو پیارے ہوگئے ۔ پھریہ کتاب مجھے بطور وراثت ملی ہیں،جو کہ تقریباً 5 لاکھ روپے مالیت کی ہیں۔ جن کو میں نے اپنے مطالعہ وغیرہ کیلئے رکھ لیا ہے۔ پوچھنا یہ ہے کہ کیا ان پر زکوٰۃ لازم ہے۔


جواب:

مذکورہ کتابیں اگرچہ مالِ تجارت تھیں،لیکن وراثت میں ملنے کی وجہ سے اب یہ سامانِ تجارت نہیں رہیں،اور آپ نے بھی اپنی ضرورت کیلئے رکھ لیا ہے ،  اس لئے اب ان پر زکوۃ لازم نہیں ہوگی۔ 

لما في حاشية الشلبي:

 قال في الذخيرة واتفق أصحابنا على أن من ورث أعيانا ونوى التجارة فيها عند موت مورثه لا يعمل بنيته، وقال في المحيط والمرغيناني إلا أن يكون ذهبا أو فضة فهي على ما ورثه

 (حاشية الشلبي على التبيين، كتاب الزكاة، شرط صحة أداء الزكاة، 1/ 257 ط: المطبعة الكبرى الأميرية)

 فقط واللہ اعلم

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 307202610235

فتویٰ آن لائن


وراثت میں ملی کتابوں پر زکوٰۃ کا شرعی حکم #زکوٰۃ #وراثت #کتابیں #مال_تجارت #فقہ