info@fatwaaonline.com.pk
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
فتویٰ آن لائن

فتویٰ آن لائن

دارالافتاء





عدالتی خلع بغیر شوہر کی رضامندی کے: کیا نکاح برقرار ہے اور دوبارہ آباد ہونے کا شرعی حکم؟


سوال: خالدہ (فرضی نام)نے اپنے شوہرعابد (فرضی نام ) کے خلاف عدالت میں کیس دائر کیا اور عدالت کے بر بناء خلع فیصلہ کردیا،جبکہ شوہر عدالت میں آیا نہیں ، اور نہ ہی کبھی زبانی طلاق دی اور نہ لکھ کر طلاق دی۔ اب فریقین دوبارہ آباد ہونا چاہتے ہیں، آیاآبا دہوسکتے ہیں یا نہیں؟


جواب:

واضح رہے کہ خلع ایک مالی معاملہ ہے، جس طرح دیگر مالی معاملات مثلاً بیع، اجارہ وغیرہ میں جانبین کی رضامندی شرط ہے، اس کے بغیر وہ معاملہ شرعاً درست نہیں ہوتا، اسی طرح خلع میں بھی جانبین کی رضامندی شرط ہے، فقط ایک فریق کے چاہنے سے خلع واقع نہیں ہوتی، جبکہ زیرِ بحث صورت میں شوہر عدالت میں حاضر نہیں ہوا، اور نہ ہی اس نے اس خلع کے فیصلہ کو تسلیم کیا، نہ زبانی و تحریری طلاق دی، لہٰذا اگر فریقین دوبارہ آباد ہونا چاہیں تو احتیاطاً دوبارہ نکاح کرکے آباد ہوسکتے ہیں؛کیونکہ عدالت کے فیصلہ کی وجہ سے شبہہ پایا گیا۔

لما في بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع:

 وأما ركنه فهو الإيجاب والقبول؛ لأنه عقد على الطلاق بعوض فلا تقع الفرقة، ولا يستحق العوض بدون القبول

 (كتاب الطلاق،3/ 145 ط:دار الكتب العلمية)

 هكذا في رد المحتار (الدر مع الرد، كتاب الطلاق، باب الخلع، 3/ 441 ط: دارالفكر)

 فقط واللہ اعلم

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 307202610243

فتویٰ آن لائن


عدالتی خلع بغیر شوہر کی رضامندی کے: کیا نکاح برقرار ہے اور دوبارہ آباد ہونے کا شرعی حکم؟ #خلع_کا_حکم #عدالتی_خلع #شوہر_کی_رضامندی #نکاح_کی_حیثیت #دوبارہ_نکاح #طلاق_کا_شرعی_حکم #اسلامی_خاندانی_قانون #دارالافتاء #فقہی_مسئلہ #شرعی_رہنمائی