گھروں میں پالتو بلیاں رکھنے اور ان کی خرید و فروخت کا شرعی حکم
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ آج کل غیر ممالک سے برآمد شدہ مختلف قسم کی بلیوں ، جو انسانوں سے کافی مانوس ہوتی ہیں، ان کو لوگ بڑے شوق سے گھروں میں رکھتے ہیں۔ ان کی خوراک وغیرہ کا خیال رکھتے ہیں۔ اور ان بلیوں کو گندگی ،پیشاب وغیرہ کے بارے میں سدھائی ہوئی ہوتی ہیں، مقررہ جگہ واش روم وغیرہ میں ہی پیشاب کرتی ہیں۔ ان بلیوں ،ان کے بچوں کو گھروں میں رکھنا اور ان کی خرید و فروخت کا کیا حکم ہے؟
جواب:
واضح رہے کہ بلیوں کو پالنے کی شرعاً گنجائش ہے، جیساکہ حضرت ابو ھریرہؓ کی کنیت "بلی" کے پالنے کی وجہ سے رکھی گئی۔
لما في سير أعلام النبلاء:
ويقال: كان في الجاهلية اسمه عبد شمس، أبو الأسود، فسماه رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: عبد الله، وكناه أبا هريرة.والمشهور عنه: أنه كني بأولاد هرة برية.قال: وجدتها، فأخذتها في كمي، فكنيت بذلك.
(فصل في بقية كبراء الصحابة، ترجمة أبي هريرة الدوسي عبد الرحمن بن صخر، 2/ 579 ط:الرسالة)
آپﷺ نے بلی کو متاع البیت قرار دیا ہے۔
عن أبي هريرة، قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم -: "الهرة لا تقطع الصلاة، لأنها من متاع البيت" (سنن ابن ماجه ، 1/ 241 رقم:369ط:دار الرسالة العالمية)
قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم -: إنها ليست بنجس، هي من الطوافين أو الطوافات"
(سنن ابن ماجه، 1/ 240 رقم:367 ط:دار الرسالة العالمية)
بلیوں کی خریدوفروخت شرعاً درست ہے۔
لما في رد المحتار:
بيع الكلب المعلم عندنا جائز، وكذا السنور، وسباع الوحش والطير جائز معلما أو غير معلم
(الرد مع الدر، کتاب البیوع، باب البیع الفاسد، 5/ 69 ط:سعيد)
فقط واللہ اعلم
فقط واللہ اعلم
فتوی نمبر : 522202610294
فتویٰ آن لائن