لاولد فوت شدہ عورت کے حقِ مہر کی شرعی حیثیت اور شوہر، والدین کے درمیان ترکہ کی تقسیم
سوال: ايك عورت(جمیلہ) لاولد فوت ہوگئی ہے، ورثاء میں شوہر، والد، والدہ، بہن اور بھائی ہیں۔اس کا حق مہر ایک مرلہ مکان اور دس ہزار روپے بصورت نقد طے ہوا تھا، جو اس نے وصول نہ کیا تھا کہ فوت ہوگئی۔ اب آیا یہ ترکہ میں شمار ہوگا؟ ہر ایک کا شرعی حصہ بتا دیں۔
جواب:
مسئلہ6 جمیلہ(متوفیہ)
میتـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
شوہر والدہ والد بہن ،بھائی
3۔ 1۔ 2۔ محروم
بر تقدیرِ صحتِ واقعہ صورت مسئولہ میں بعد ادائے قرض و وصیتِ جائزہ مرحومہ کا کل ترکہ(سونا [خواہ والدین نے دیا ہویا سسرال والوں نے ]و جہیز کا سامان حق مہر [جو ابھی تک وصول نہیں کیا تھا]وغیرہ) 6 (چھ) حصے ہو کر حسبِ تفصیلِ بالا تقسیم ہوگا، ہر وارث کا حصہ اس کے نام کے نیچے درج ہے۔
باقی مرحومہ کے تمام بہن بھائی والد کے موجودگی میں ترکہ سے شرعاً محروم رہیں گے۔
لما في الفتاوى الهندية:
والمهر يتأكد بأحد معان ثلاثة: الدخول، والخلوة الصحيحة، وموت أحد الزوجين سواء كان مسمى أو مهر المثل حتى لا يسقط منه شيء بعد ذلك إلا بالإبراء
(كتاب النكاح، الباب السابع في المهر، الفصل الثاني فيما يتأكد به المهر، 1/ 303 ط:دارالكتب العلمية)
ولما في رد المحتار:
وبنو الأعيان وبنو العلات كلهم يسقطون بالابن وابن الابن وإن سفل وبالأب بالاتفاق
(الرد مع الدر، كتاب الفرائض، 6/ 782 ط: دارالفكر)
فقط واللہ اعلم
فقط واللہ اعلم
فتوی نمبر : 307202610240
فتویٰ آن لائن