لے پالک بچے کی ولدیت کا شرعی حکم
سوال: میرے تین بچے ہوئے اور وہ فوت ہوگئے، تو میں نے ایک ڈاکٹر سے بات کی کہ کوئی بچہ آئے تو مجھے بتانا۔ چند دن بعد اس کے پاس ایک خاتون کی آٹھویں بچی پیدا ہوئی،جس پر وہ اسے چھوڑ کر چلی گئی، ڈاکٹر نے مجھے بلایا اور بچی میرے حوالہ کردی تو بے فارم میں ولدیت میں میں نے اپنا نام لکھوا دیا۔ اب چند دن بعد اس کی شادی ہے اور مجھے اب مسئلہ پتہ چلا ہے کہ ولدیت میں میں اپنا نام نہیں دے سکتا۔ آیا اب نکاح کیسے کریں۔نیز مجھے معلوم نہیں کہ بچی کے حقیقی والد ین کا نام کیا ہے۔
جواب:
واضح رہے کہ لے پالک بچےکو اس کے حقیقی والد ہی کی طرف منسوب کرنا ضروری ہے، پالنے والے کا اس کو اپنا نام دینا جائز نہیں ہے، اسی طرح تمام دستاویزات مثلاً نکاح نامہ وغیرہ میں ولدیت کےخانہ میں حقیقی والد ہی کا نام لکھنا ضروری ہوتا ہے، پالنے والے کا نام لکھنا جائز نہیں ہے، بلکہ نبی کریمﷺ نے ایسے شخص کے بارے میں جو جان بوجھ کر اپنے آپ کو حقیقی والد کے غیر کی طرف منسوب اس پر جنت کو حرام قرار دیا ہے۔
عن سعد رضي الله عنه، قال سمعت النبي صلى الله عليه وسلم، يقول: «من ادعى إلى غير أبيه، وهو يعلم أنه غير أبيه، فالجنة عليه حرام»
(صحيح البخاري، كتاب الفرائض، باب من ادعى إلى غير أبيه، رقم الحديث: 6766، 8/ 156 ط: دار طوق النجاة)
نیز ارشادِ خداوندی ہے: {ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ} [الأحزاب: 5]
ترجمہ: "تم ان(لے پالک ) کو ان کے (حقیقی) باپوں کی طرف منسوب کرکے پکارو، یہی اللہ (تعالیٰ ) کے ہاں زیادہ انصاف والا(معاملہ) ہے"
لہٰذا لڑکی والوں کا لڑکی کو اس کے حقیقی والد کے بجائے پالنے والے کی طرف منسوب کرنا اور دستاویزات مثلاً نکاح نامہ وغیرہ میں ولدیت کے خانہ میں پرورش کرنے والےکا نام لکھنا حرام وگناہ ہے۔
باقی اس بچی کے نکاح کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ اگر بچی مجلسِ نکاح میں موجود نہ ہو(جیساکہ ہمارے ہاں عام طور پر ہوتا ہے) تو بوقت ِعقدنکاح خواں لڑکی کا نام لے کر کہے کہ "میں نے بطور وکیل فلاں بچی جس کے سرپرست اشفاق حسن ہیں، کا نکاح فلاں سے اتنے روپے حق مہر کے ساتھ روبرو اِن گواہان کےکیا۔"۔ اس طرح کہنے سے نکاح شرعاً منعقد ہوجائے گا۔البتہ
اگر لے پالک والد کا نام لیا تونکاح منعقد ہی نہیں ہوگا۔
الأشباه والنظائر لابن نجيمؒ:
ولو غلط وكيلها بالنكاح في اسم أبيها ولم تكن حاضرة لا ينعقد النكاح
(الفن الثاني، کتاب النکاح، ص: 148 ط: دار الكتب العلمية)
فقط واللہ اعلم
فقط واللہ اعلم
فتوی نمبر : 319202610251
فتویٰ آن لائن