نکاح کے بعد رخصتی سے انکار اور طلاق: حق مہر کی واپسی کا شرعی حکم
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر نکاح کے کاغذات پر دولہا لکھ کردے کہ 5 مرلہ زمین حق مہرمعجل اور 5 تولہ سونا حق مہر معجل ، اور نکاح کے بعد رخصتی سے انکاری ہے اور طلاق یا خلع کرنا چاہتا ہے۔ اس صورتحال میں شریعتِ محمدی ﷺ کے مطابق بتائیں کہ دولہن طلاق ہوجانے کے بعد مکمل حق مہر واپس کرے گی یا کچھ واپس نہیں کرے گی۔
جواب:
واضح رہے کہ خلع کی کس صورت میں حق مہر واپس لیا جاسکتا ہے، اور کب واپس نہیں کیا جاسکتا تو اس کے بارے میں تفصیل یہ ہے کہ اگر قصور مرد کا ہے تو دیانةً حق مہر واپسی کا مطالبہ کرنا مکروہ ہے، اور اگر قصورعورت کا ہے تو دیانةً حق مہر کی واپسی کا مطالبہ بلا کراہت درست ہے۔جیساکہ حضرت جمیلہؓ بنت سلول نے حضرت ثابتؓ بن قیس سے طلاق چاہی تو آپﷺ نے حق مہر میں ملے باغ کے واپس کرنے کا فرمایا۔
عن ابن عباس، قال: جاءت امرأة ثابت بن قيس بن شماس إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالت: يا رسول الله، ما أنقم على ثابت في دين ولا خلق، غير أني أخاف الكفر في الإسلام؟ " فقال: «أتردين عليه حديقته؟» قالت: «نعم، فأمرها أن ترد عليه، ففرق بينهما»
(السنن الصغير للبيهقيؒ، كتاب الخلع والطلاق، باب الوجه الذي تحل به الفدية، 3/ 105 ط: جامعة الدراسات الإسلامية)
ولما في بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع:
وإن كان النشوز من قبلها فلا بأس بأن يأخذ منها شيئا قدر المهر۔۔۔ وأما الزيادة على قدر المهر ففيها روايتان ذكر في كتاب الطلاق أنها مكروهة۔۔۔ ونحن به نقول: إنه يحل له قدر ما آتاها
(كتاب الطلاق، فصل في حكم الخلع، 3/ 150، ط: دار الكتب العلمية)
ولما في الفتاوى الهندية:
وإن كان النشوز من قبلها كرهنا له أن يأخذ أكثر مما أعطاها من المهر
(كتاب الطلاق، الباب الثامن في الخلع، الفصل الأول في شرائط الخلع، 1/ 488 ط: دار الفكر)
اور اگر شوہر رخصتی سے خودقبل طلاق دے دے تو بیوی آدھے حق مہر کی حقدار ہوتی ہے، لہٰذا اگر مکمل حق مہر وصول کرلیا ہوتو آدھا شوہر کو واپس کرنا لازم ہے اور اگر وصول نہیں کیا توشوہر کے ذمہ لازم ہے کہ آدھا حق مہر بیوی کو ادا کرے۔
لما في الدر المختار:
(و) يجب (نصفه بطلاق قبل وطء أو خلوة)
(الدر مع الرد، کتاب الطلاق، باب طلاق غير المدخول بها، 3/ 104 ط:سعيد)
فقط واللہ اعلم
فقط واللہ اعلم
فتوی نمبر : 319202610252
فتویٰ آن لائن