ورثاء میں ایک بیوہ، چار بھائی اور پانچ بہنیں ہوں تو وراثت کی تقسیم کیسے ہوگی؟
سوال: محمد علی کا انتقال ہوا، ورثاء میں ایک بیوہ، چار بھائی، اور پانچ بہنیں ہیں۔مرحوم کے والدین اس کی زندگی میں ہی انتقال کر گئے تھے۔نیز مرحوم لا ولد تھا، اس نے ایک لڑکا مسمی خالد گود لے رکھا تھا۔ہر ایک کا شرعی حصہ بتا دیں۔
جواب:
مسئلہ4/52 مضروب 13 محمد علی(متوفی)
میتـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
بیوہ ۔بھائی ۔بھائی ۔بھائی ۔بھائی ۔بہن ۔بہن ۔بہن ۔بہن ۔بہن
1۔ 3
13 ۔6 ۔6 ۔6 ۔6 ۔3 ۔3 ۔3۔ 3 ۔3
بر تقدیرِ صحتِ واقعہ صورت مسئولہ میں بعد ادائے قرض و وصیتِ جائزہ محمد علی(مرحوم) کا کل ترکہ 52 حصے ہو کر بیوہ کو 13 حصے اور ہر بھائی کو 6 حصے اور ہر بہن کو 3 حصے ملیں گے۔
خالد لے پالک ہونے کی وجہ سے شرعاً محمد علی (مرحوم) کے ترکہ سے محروم رہے گا۔
لما في الفتاوى الهندية:
ويستحق الإرث بإحدى خصال ثلاث: بالنسب وهو القرابة، والسبب وهو الزوجية، والولاء
(کتاب الفرائض، 6 / 447 ط: دارالمعرفة)
فقط واللہ اعلم
فتوی نمبر : 726202610392
فتویٰ آن لائن