info@fatwaaonline.com.pk
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
فتویٰ آن لائن

فتویٰ آن لائن

دارالافتاء





کمیشن شاپ کے مالی معاملات: جائز و ناجائز صورتوں کی تفصیل


سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ سبزی منڈی میں کمیشن شاپ والے کے پاس بیوپاری مال بھیجتے ہیں، کمیشن فیصد میں طے ہوتا ہے، 5 یا 7 فیصد۔کیا یہ درست ہے؟ 2۔ کمیشن شاپ والا مزدور رکھتا ہےکہ مالک ِ مال کا مال ٹرک سے اتارنا، چند پیٹیاں آگے لگانا ، باقی پیچھے رکھنا، پھر آگے والی بک جائیں تو پیچھے سے مال آگے لانا، اس مزدور کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ اس کی مزدوری مالک سے لیتاہے، بلکہ بعض اوقات کمیشن ایجنٹ خود مزدور بن جاتا ہے اور اسکی تنخواہ مالک سے لیتے ہیں۔ نیز کمیشن کے علاوہ تنخواہ کاٹتا ہے، کیا یہ درست ہے؟ 3۔ کمیشن شاپ والوں کے پاس بعض اوقات پیسے نہیں ہوتے ، بایں صورت کہ بیوپاری کا مال بیچ کر اس کی رقم کھا لی ہوتی ہے، اب بیوپاری کو رقم دینی ہوتی ہے، تو وہ کسی شخص سے قرض لیتے ہیں، اس شرط پر کہ آج ہماری دکان میں جو مال فروخت ہوگا، اس کے کل نفع کا 2 فیصد آپ کو دینگے، خود کمیشن شاپ والا 7 فیصد نفع لیتا ہے۔جس میں سے 2 فیصد رقم دینے والے کو دے دیتا ہے، کیا یہ جائز ہے؟ اگر ناجائز ہے تو متبادل صورت کیا ہوسکتی ہے؟ 4۔ کمیشن شاپ والا کسی سے پیسے قرض لیکر کاروبار کرتا ہے ، بایں صورت کہ بیوپاری کا مال بیچ کر اس کی رقم کھا لی ہوتی ہے، اب بیوپاری کو رقم دینی ہوتی ہے، تو وہ کسی شخص سے قرض لیتے ہیں کہ آج میری دکان پر جو مال اترے گا، ہر نَگ پر دس روپے قرض دینے والے کے ہوں گے۔ آیا یہ جائز ہے؟ اگر ناجائز تو متبادل صورت کیا ہوسکتی ہے؟


جواب:

1۔ بر تقدیرِ صحتِ واقعہ صورتِ مسئولہ میں کمیشن فیصد کے اعتبار سے طے کرنے کی گنجائش ہے۔

لما في رد المحتار:

 قال في التتارخانية: وفي الدلال والسمسار يجب أجر المثل، وما تواضعوا عليه أن في كل عشرة دنانير كذا فذاك حرام عليهم. وفي الحاوي: سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار، فقال: أرجو أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسدا لكثرة التعامل وكثير من هذا غير جائز، فجوزوه لحاجة الناس إليه كدخول الحمام۔۔۔

 (الرد مع الدر، كتاب الإجارة، باب الإجارة الفاسدة، مطلب في أجرة الدلال، 6/ 63 ط:دارالفكر)

 2۔ آڑھتی کی دکان پر مال پہنچنے کے بعد مال کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنا مالک کی ذمہ داری ہے، لہذا اس کیلئے اگر وہ مزدور دیتا ہے تو اس کی شرعاً گنجائش ہے، تاہم اگر یہ کام خود آڑھتی نے کئے تو اس پر مزدور کی تنخواہ مالک سے لینا شرعاً جائز نہیں۔ایسے ہی کمیشن ایجنٹ اپنی سہولت کیلئے کوئی مزدور رکھتا ہے تو اس کی تنخواہ کی ذمہ داری بھی خود اسی کے ذمہ ہوگی۔

 3،4۔ یہ دونوں صورتیں ناجائز ہیں؛کیونکہ یہ قرض پر نفع ہے، جو کہ سود ہے۔

 عن عمارة الهمداني قال: سمعت عليا يقول: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: كل قرض جر منفعة فهو ربا

 (بغية الباحث عن زوائد مسند الحارث، كتاب البيوع، باب في القرض يجر المنفعة، 1/ 500 ط: الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة)

 لما في الدر المختار:

 وفي الأشباه كل قرض جر نفعا حرام

(الدر مع الرد، كتاب البيوع، باب المرابحة والتولية،5/ 166 ط:دارالفكر)

 فقط واللہ اعلم

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 324202610263

فتویٰ آن لائن


کمیشن شاپ کے مالی معاملات: جائز و ناجائز صورتوں کی تفصیل #کمیشن_ایجنٹ #آڑھتی_کے_مسائل #سمسار_کا_حکم #اجرت_کے_مسائل #کاروباری_معاملات #قرض_اور_سود #ربا_سے_بچاؤ #تجارت_کے_احکام #فقہ_حنفی #رد_المحتار