info@fatwaaonline.com.pk
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
فتویٰ آن لائن

فتویٰ آن لائن

دارالافتاء





زندگی میں جائیداد تقسیم کرنے کا شرعی طریقہ: بیوہ، چھ بیٹوں اور آٹھ بیٹیوں کا حصہ


سوال: سائل حبيب اللہ کے ورثاء میں ایک بیوی، چھ بیٹے اور آٹھ بیٹیاں ہیں۔ میرے والدین ، میری دو بیویاں پہلے وفات پاچکی ہیں۔ پوچھنا یہ ہے کہ میرے پاس تقریباً تین کڑور روپے کی رقم ایسی ہے جو میں اپنے ان ورثاء میں وراثت کے ضابطہ سے تقسیم کرنا چاہتا ہوں۔ اس کے علاوہ بھی میرے پاس اپنے گزر بسر کیلئے کافی ہے ۔ میری رہنمائی فرمائیں کہ یہ رقم میں وراثت کے ضابطہ سے تقسیم کرو تو ہر بیٹے ، بیٹی، اور بیوہ کے حصہ میں کتنی رقم آئے گی؟


جواب:

مسئلہ8/160 مضروب20 ترکہ 3،00،00،000 

میتـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

 بیوہ ۔بیٹی ۔بیٹی ۔بیٹی ۔بیٹی ۔بیٹی ۔بیٹی ۔بیٹی ۔بیٹی ۔بیٹا ۔بیٹا ۔بیٹا ۔بیٹا ۔بیٹا ۔بیٹا

 1۔ 7

20۔ 7۔ 7۔ 7۔ 7۔ 7۔ 7۔ 7۔ 7۔ 14۔ 14۔ 14۔ 14۔ 14۔ 14

آپ یہ جائیداد کل ایک سو ساٹھ ( 160) حصے کر کے حسب تفصیل بالا تقسیم کردیں۔ ہر ایک کا حصہ اس کے نام کے نیچے درج ہے۔ اس ضابطہ کے مطابق مذکورہ رقم میں سے ہر ایک کے حصہ میں آنے والی رقم درج ذیل ہے۔ : 

بیوہ : 37,50,000۔(سینتیس لاکھ پچاس ہزار روپے)

فی بیٹی : 13,12,500۔(تیرہ لاکھ بارہ ہزار پانچ سو روپے)

فی بیٹا: 26,25,000۔(چھبیس لاکھ پچاس ہزار روپے)

 فقط واللہ اعلم

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 319202610259

فتویٰ آن لائن


زندگی میں جائیداد تقسیم کرنے کا شرعی طریقہ: بیوہ، چھ بیٹوں اور آٹھ بیٹیوں کا حصہ #تقسیم_وراثت #زندگی_میں_جائیداد_کی_تقسیم #اسلامی_وراثت #بیوہ_کا_حصہ #بیٹوں_اور_بیٹیوں_کا_حصہ #علم_الفرائض #دارالافتاء #شرعی_رہنمائی #ترکہ_کی_تقسیم #فقہی_مسائل