info@fatwaaonline.com.pk
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
فتویٰ آن لائن

فتویٰ آن لائن

دارالافتاء





گن پوائنٹ پر دو طلاق دلوانے کے بعد عدت میں رجوع کا حکم: نکاح برقرار ہے یا نہیں؟


سوال: سائل کی پہلی بیوی فوت ہوگئی تھی تو میں نے دوسری شادی ایک بیوہ سے کی، جس کے گواہوں میں میرا بیٹا بھی تھا۔ پھر نامعلوم وجوہات کی بناء پر اس نے گن پوائنٹ پر مجھ سے عظمی کو زبانی دو بارلفظِ طلاق کہلوا لیے ۔ پھر ہفتہ کے اندر ہم نے دوبارا رجوع کرلیا۔ آیا اب ہمارا نکاح باقی ہے؟ نوٹ: اس واقعہ کے علاوہ کبھی کوئی طلاق نہیں دی تھی، نہ زبانی اور نہ ہی تحریری۔


جواب:

بر تقدیرِ صحتِ واقعہ صورتِ مسئولہ میں مذکورہ عورت  پر دو طلاق رجعی واقع ہوچکی ہیں۔پھر عدت کے اندر رجوع کرلینے سے نکاح بحال ہوچکا ہے۔ تاہم مستقبل میں سائل  کے پاس صرف ایک طلاق دینے کا اختیار ہے۔باقی بیٹے کا متذکرہ بالا حرکت کرنا سخت کبیرہ گناہ ہےاور والد کی نافرمانی ہے، جس پر اسے سچے دل سے نادم ہوکر والدین پھر اللہ تعالیٰ سے معافی مانگنی چاہیے،ورنہ آخرت میں سخت جوابدہی ہوسکتی ہے۔

لما فی المبسوط للسرخسيؒ:

 وإذا طلقها واحدة أو ثنتين فهو يملك الرجعة ما لم تنقض العدة

 (كتاب الطلاق، 6 / 13 ط: دار المعرفة)

 ولما في الفتاوى الهندية:

 وإذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو

 لم ترض كذا في الهداية

 (كتاب الطلاق، الباب السادس في الرجعة، 1/ 470 ط:دارالمعرفة)

 فقط واللہ اعلم

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 319202610253

فتویٰ آن لائن


گن پوائنٹ پر دو طلاق دلوانے کے بعد عدت میں رجوع کا حکم: نکاح برقرار ہے یا نہیں؟ #طلاق_رجعی #رجوع_کا_حکم #دو_طلاق #نکاح_کی_بحالی #خاندانی_مسائل #اسلامی_فقہ #دارالافتاء #طلاق_کے_مسائل #شرعی_رہنمائی #عدت_اور_رجوع