گود لیے ہوئے لڑکے سے نواسی کا نکاح: جائز یا ناجائز؟
سوال: مسماۃ زینب(نانی) نے ایک لڑکا (زید) گود لیا، اس کی مکمل پرورش اپنے ہاں کی،حتی کہ ولدیت میں اپنے شوہر (نانے) کا نام لکھوایا۔ اب زید کا نکاح زینب اپنی نواسی(جمیلہ) سے کرنا چاہتی ہے۔ آیا زید کا نکاح جمیلہ سے شرعاً جائز ہے؟ جبکہ جمیلہ زید کو ماموں کہہ کر پکارتی ہے۔ نوٹ: زینب وغیرہ نے زید کو دودھ بالکل نہیں پلایا۔
جواب:
واضح رہے کہ کسی کو گود لینے سے وہ حقیقی بیٹا نہیں بن جاتا، اور نہ ہی اس پر حقیقی بیٹے کے احکام جاری ہوتے ہیں۔لقوله تعالىٰ: {وَمَا جَعَلَ أَدْعِيَاءَكُمْ أَبْنَاءَكُمْ ذَلِكُمْ قَوْلُكُمْ بِأَفْوَاهِكُمْ} [الأحزاب: 4]
ترجمہ: "اللہ نے تمہارے منہ بولے بیٹوں کو حقیقی بیٹا نہیں بنایا، یہ تمہارے منہ کی باتیں ہیں"
اسی وجہ سے یہ وراثت میں شرعاً حقدار نہیں ہوتا، اجنبی ہونے کی وجہ سے پردہ کے احکام جاری ہوتے ہیں، ولدیت میں حقیقی والد کا نام لکھنا ضروری ہوتا ہے، پالنے والے کا نام لکھنا جائز نہیں ہے، بلکہ نبی کریمﷺ نے ایسے شخص کے بارے میں جو جان بوجھ کر اپنے آپ کو حقیقی والد کے غیر کی طرف منسوب کرے ، اس پر جنت کو حرام قرار دیا ہے۔
عن سعد رضي الله عنه، قال سمعت النبي صلى الله عليه وسلم، يقول: «من ادعى إلى غير أبيه، وهو يعلم أنه غير أبيه، فالجنة عليه حرام»
(صحيح البخاري، كتاب الفرائض، باب من ادعى إلى غير أبيه، رقم الحديث: 6766، 8/ 156 ط: دار طوق النجاة)
نیز ارشادِ خداوندی ہے:
{ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ} [الأحزاب: 5]
لما في روح المعاني:
ويعلم من الآية أنه لا يجوز إنتساب الشخص إلى غير أبيه
(روح المعاني، الأحزاب: 5، 21/ 149 ط: إحياء التراث العربي)
لہٰذا حقیقی والد کے بجائے پالنے والے کا نام لکھنا حرام وگناہ ہے۔
اس تفصیل سے یہ معلوم ہوا کہ جمیلہ کے زید کو ماموں کہنے سے وہ حقیقی ماموں نہیں بنا، بلکہ بدستور اجنبی ہے، {وَأُحِلَّ لَكُمْ مَا وَرَاءَ ذَلِكُمْ} [النساء: 24]میں داخل ہونے کی وجہ سے زید کا جمیلہ سے نکاح کرنا شرعاً جائز ہے۔
فقط واللہ اعلم
فقط واللہ اعلم
فتوی نمبر : 330202610278
فتویٰ آن لائن