تین افراد کا آم کے پودوں کی نرسری میں مضاربت کا معاہدہ: شرعی حیثیت اور نفع کا حکم
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہم تین فریقوں(عبد الخالق،عامر عباس، زاہد مشتاق) نے باہم مضاربت کا معاہدہ کیا کہ اخراجات، رقم ساری زاہد لگائے گا، جس سے نرسری آم پیوند کے پودوں کا ذخیرہ بنایا جائے گا، گھٹلی سے لیکر مکمل محنت عامر عباس کرے گا۔ بوقت ضرورت عبد الخالق سرپرستی کرے گا کہ کام عامر عباس کررہا ہے یا نہیں۔نفع نقصان کے بارے میں یوں طے کیا کہ عبدالخالق ٪20۔عامر عباس٪45 ۔زاہد مشتاق٪35 نفع ونقصان برداشت کریں گے۔آیا یہ معاملہ شرعاً درست ہے؟ اب ذخیرہ تیار ہوچکا ہے۔ اب ہر ایک کا شرعی نفع بتا دیں۔
جواب:
بر تقدیرِ صحتِ واقعہ صورتِ مسئولہ میں کیا گیا معاہدہ نہ تو شراکت ہے، نہ مضاربت ہے۔شراکت تو اس لئے نہیں کہ تمام فریقوں کا سرمایہ نہیں۔ مضاربت اس لئے نہیں کہ اولاً اس میں نقصان برداشت کرنے کی شرط عاملین پر لگائی گئی ہے، ثانیاً مضاربت اور شراکت میں عامل کا کام کسی چیز کو خریدناپھر بیچ کرنفع کمانا ہوتا ہے، جبکہ زیرِ بحث صورت میں تو ذخیرہ باقاعدہ تیار کیا گیا۔ لہٰذا یہ مضاربت نہ ہوئی اور نہ ہی شراکت۔ بلکہ بظاہر یہ مزارعت ہے کہ بیچ، گھٹلی وغیرہ کی کاشت کرکے بڑا کرنا ہے،لیکن یہ مزارعت بھی فاسدہ ہے، اس لئے کہ اس میں تین افراد شریک ہیں۔ نیز نقصان کی شرط ہر فریق پر ڈالی گئی ہے، یعنی اگر یہ ذخیرہ اخراجات سے بھی کم میں فروخت ہوا تو اخراجات کا نقصان ہر فریق برداشت کرے گا، جوکہ مزارعت کو فاسد کردیتی ہے۔
تبيين الحقائق:
وشرطها أن يكون رأس المال من الأثمان وهو معلوم والربح بينهما شائعا ونصيب كل منهما معلوما وأن يكون معينا مسلما إليه فإن فقد شيء من هذه الأشياء فسدت
(التبيين مع حاشية الشلبيؒ، كتاب المضاربة، 5/ 53 ط: المطبعة الكبرى الأميرية)
وفيه أيضاً:
والمضارب ۔۔۔ بالفساد أجير
(التبيين مع حاشية الشلبيؒ، كتاب المضاربة، 5/ 53 ط: المطبعة الكبرى الأميرية)
الدر المختار:
(وإجارة فاسدة إن فسدت فلا ربح) للمضارب (حينئذ بل له أجر) مثل (عمله مطلقا) ربح أو لا (بلا زيادة على المشروط)
(الدر مع الرد، كتاب المضاربة، 5/ 646 ط:دارالفكر)
لما في الدر المختار:
ومتى دخل ثالث، فأكثر بحصة فسدت
قال ابن عابدينؒ في رد المحتار: قال في الخانية: لو اشترك ثلاثة أو أربعة ومن البعض البقر وحده أو البذر وحده فسدت
(الدر مع الرد، كتاب المزارعة، 6/ 278 ط:سعيد)
لما في الدر المختار:
(متى فسدت، فالخارج لرب البذر) ؛ لأنه نماء ملكه (و) يكون للآخر أجر مثل عمله أو أرضه ولا يزاد على (الشرط)
(الدر مع الرد، كتاب المزارعة، 6/ 279 ط:سعيد)
الفتاوى الهندية:
فإن كانت الأرض لأحدهما وشرطا أن يكون البذر منهما إن شرطا العمل على غير صاحب الأرض وشرطا أن يكون الخارج بينهما نصفين كانت فاسدة۔۔۔ كذلك لو شرطا
أن يكون الخارج بينهما أثلاثا ثلثاه للعامل وثلثه لصاحب الأرض أو على العكس كان فاسدا
(كتاب المزارعة، الباب الثاني في بيان أنواع المزارعة، 5/ 238 ط:دارالکتب العلمیة)
هكذا في فتاوى قاضيخان (الخانية على هامش الهندية، 3/ 177 ط: رشيديه)
خلاصہ یہ ہے کہ یہ مزارعت فاسدہ ہے، اس صورت میں اصل یعنی گھٹلی وغیرہ زاہد مشتاق کی ہے، اس لئے تمام ذخیرہ زاہد مشتاق کی ملکیت شمار ہوگا، عامر عباس اور عبد الخالق نے جتنے دن محنت کی ہے، انکو اجرتِ مثل ملے گی، یعنی ایک مزدور اتنا عرصہ ایسے محنت کرتا تو جتنی اجرت اسکی بنتی ، وہی ان دونوں کا اپنے کام کے بقدر ملے گی۔
فقط واللہ اعلم
فقط واللہ اعلم
فتوی نمبر : 319202610254
فتویٰ آن لائن