کرایہ کی دکان آگے زیادہ کرایہ پر دینا کیسا ہے؟
سوال: خالد نے دکان چار لاکھ ایڈوانس اور آٹھ ہزار ماہانہ کرایہ پر لی ، پھر میں(ناصر) نے خالد کے ساتھ مل کر اس دکان میں مشترکہ کاروبار کیا جو اب ختم ہوچکا ہے۔۔۔ ، اب میں وہ دکان اس سے پانچ لاکھ ایڈوانس اور دس ہزار ماہانہ کرایہ پر لیناچاہتا ہوں۔ آیا میں اس سے دکان کرایہ پر لے سکتا ہوں؟جبکہ اس نے اس دکان میں لکڑی کا کام، رنگ وروغن وغیرہ کرایا ہے۔
جواب:
بر تقدیرِ صحتِ واقعہ صورتِ مسئولہ میں اگر ناصر دکان میں ایسا کام نہ کرے جس سے دکان کو نقصان ہو تو خالد کا اس کو دکان زیادہ ایڈوانس اور کرایہ لے کر دینا جائز ہے؛کیونکہ خالد کے اس میں مزید کام کروانے کی وجہ سے اس کیلئے اصل مالک سے طے شدہ کرایہ سے زائد کرایہ لیناجائز ہے۔
البحر الرائق:
فله أن يسكنها بنفسه ويسكنها غيره بإجارة وغيرها
(البحر مع منحة الخالق وتكملة الطوري، كتاب الإجارة، باب ما يجوز من الإجارة، 7/ 304 ط:دارالكتاب الإسلامي)
ولما في الدر المختار:
(وله السكنى بنفسه وإسكان غيره بإجارة وغيرها) وكذا كل ما لا يختلف بالمستعمل يبطل التقييد؛ لأنه غير مفيد، بخلاف ما يختلف به كما سيجيء، ولو آجر بأكثر تصدق بالفضل إلا في مسألتين: إذا آجرها بخلاف الجنس أو أصلح فيها شيئا
(الدر مع الرد، كتاب الإجارة، باب ما يجوز من الإجارة، 6/ 28، 29 ط:دارالفكر)
فقط واللہ اعلم
فقط واللہ اعلم
فتوی نمبر : 324202610261
فتویٰ آن لائن