نصاب کے مالک مقروض شخص کے لیے زکوٰۃ لینا جائز ہے یا نہیں؟
سوال: من مقرق ایک مسجد میں موذن کا فریضہ سرانجام دے رہا ہوں۔ مجھ پر 50 ہزار روپے سے زیادہ قرض ہے،جبکہ میری ملکیت میں نہ سونا ہے، نہ چاندی ، اور نہ ہی کوئی سامان تجارت وغیرہ۔البتہ ملتان میں اپنا ذاتی مکان تقریباً اڑھائی مرلے کا ہے، اور ایک دوسرا مکان تقریباً اڑھائی لاکھ کی مالیت کا رحیم یار خان آبائی گاؤں میں ہے، جس سے ماہانہ 2000روپے کرایہ آتا ہے، جو میری والدہ صاحبہ لیتی ہیں۔کبھی کرایہ دار مکان چھوڑ دیتے ہیں، تو کئی کئی ماہ خالی رہ جاتا ہے۔ نیز چھ کنال وراثتی زمین ملی، جس کا سالانہ ٹھیکہ 50 ہزار روپے آتا ہے۔اور میری اپنی تنخواہ 15000روپے ہے۔جس سے میرے گھر کا گزر بسر نہیں ہوسکتا اس لیے میں مقروض ہوجاتا ہوں۔ آیا میں قرض اتارنے کیلئے زکوۃ لے سکتا ہوں؟
جواب:
بر تقدیرِ صحتِ واقعہ صورتِ مسئولہ میں سائل نے جو صورتحال بیان کی ہے تنگدستی آمدنی معاش کیلئے کافی نہ ہونا وغیرہ کی وجہ سے مستحق زکوٰۃ ہے۔اس لے اس کو زکوٰۃ دینے سے زکوٰۃ ادا ہو جائے گی، لیکن صرف قرض کی بنیاد پر(کہ میں مقروض ہوں) زکوٰۃ لیناجائز نہیں ہے، كيونکہ قرض کی ادائیگی کیلئے اس کے پاس انتظام ہے ، کرایہ کا مکان موجود ہے جو اس کی ضرورت سے زائد ہے لہذٰا یہ ضرورت سے زائد سامان میں شمار ہوگا، اور اس کی قیمتِ فروخت چونکہ 52.5 سے زیادہ ہے(جو کہ اس وقت قربانی کے نصاب سے کہیں زیادہ ہے) لہٰذا سائل پراس کی وجہ سے قربانی لازم ہے، جیساکہ فتاوی رحیمیہ میں ہے:
دوسرا مکان کرایہ پر دے یا نہ دے، قربانی وصدقۂ فطر کے سلسلہ میں تکمیل نصاب میں اس کی قیمت کااعتبار ہے کیونکہ یہ اس کی ضرورت سے زیادہ ہے۔(فتاوی رحیمیہ ، کتاب الاضحیہ، 10\ 31 ط:دارالاشاعت)
فقط واللہ اعلم
فقط واللہ اعلم
فتوی نمبر : 324202610264
فتویٰ آن لائن