info@fatwaaonline.com.pk
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
فتویٰ آن لائن

فتویٰ آن لائن

دارالافتاء





باہم رضامندی سے وراثت کی تقسیم کے کئی سال بعد ایک بہن کادوبارہ تقسیم کا مطالبہ


سوال: ہم بہن بھائیوں نے تقریباً 2011؁ ء میں والد صاحب کی وراثت تقسیم کردی، اس طرح کہ ترکہ میں ایک مکان اور ایک پلاٹ تھا۔والدہ نے مکان تین بیٹوں کو دیا اور پلاٹ تین بیٹیوں اور چوتھا حصہ بیٹوں کو دے دیا۔ اب مکان کی موجودہ قیمت تقریباً 70 لاکھ اور پلاٹ کی تقریباً ایک کروڑ سے زائد ہے۔ اب تقریباً دس سال بعد ایک بہن کہتی ہے کہ آپ نے شرعی تقسیم نہیں کی، لہٰذا مجھے میرا شرعی حصہ بتائیں۔جبکہ اس نے اپنے حصہ کے پلاٹ پر بیچنے کیلئے بینر بھی لگایا تھا اور ہم سب ورثاء اس تقسیم پر راضی ہیں۔ جس کے بیانِ حلفی ساتھ منسلک ہیں۔اس مسئلہ کا شرعی حل بتا دیں۔


جواب:

واضح رہےکہ جب سب ورثاء نے باہمی رضامندی و خوشی سے ایک بار وراثت کی تقسیم کردی تو اب عرصہ گزرنے کے بعد کسی وارث کو اس پر اعتراض کا حق حاصل نہیں۔

لما في مجلة الأحكام العدلية:

 إذا تم الصلح فليس لواحد من الطرفين فقط الرجوع

 (الكتاب الثاني عشر في الصلح والإبراء، الباب الرابع في بيان الصلح والإبراء، الفصل الأول في بيان المسائل المتعلقة بأحكام الصلح، رقم المادة:1556، ص: 303 ط:نور محمد)

 فقط واللہ اعلم

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 324202610266

فتویٰ آن لائن


#تقسیم_ترکہ #وراثت_کے_مسائل #باہمی_رضامندی #صلح_کا_حکم #رجوع_کا_مسئلہ #جائیداد_کی_تقسیم #بیان_حلفی #حقوق_الورثاء #فقہ_حنفی #مجلة_الاحکام ورثاء کی رضامندی سے تقسیم کے بعد رجوع کا شرعی حکم