info@fatwaaonline.com.pk
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
فتویٰ آن لائن

فتویٰ آن لائن

دارالافتاء





والدہ، بھائیوں اور بہن کی موجودگی میں ترکہ کی تقسیم کا شرعی طریقہ


سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے بھائی کا انتقال ہوچکا ہے۔ ورثاء میں والدہ چار بھائی اور ایک بہن زندہ ہیں، ایک بہن کا انتقال مرحوم سے پہلے ہوگیا تھا۔ ہر ایک کا شرعی حصہ بتا دیں۔


جواب:

مسئلہ6/54 مضروب9 (متوفی)

میتـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

والدہ۔ بہن ۔بھائی ۔بھائی ۔بھائی ۔بھائی ۔فوت شدہ بہن

 1۔ 5۔ محروم

9 ۔5۔ 10۔ 10 ۔10۔ 10

بر تقدیرِ صحتِ واقعہ صورت مسئولہ میں بعد ادائے قرض و وصیتِ جائزہ محمد شکیل(مرحوم) کاکل ترکہ 54 حصے ہو کر حسبِ تفصیلِ بالا تقسیم ہوگا، ہر وارث کا حصہ اس کے نام کے نیچے درج ہے۔سبیہ بی بی اور اس کی اولاد مرحوم کے ترکہ سے شرعاً محروم رہیں گے؛کیونکہ اس کا انتقال مرحوم سے پہلے ہوگیا تھا۔

لما في رد المحتار:

 (قوله إنما يكون بعد الموت) لأن كونهم ورثة لا يتحقق إلا بعد موت المورث

 (الرد مع الدر، کتاب الفرائض، 6 / 687 ط: دارالفكر)

 فقط واللہ اعلم

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 324202610269

فتویٰ آن لائن


والدہ، بھائیوں اور بہن کی موجودگی میں ترکہ کی تقسیم کا شرعی طریقہ #تقسیم_ترکہ #وراثت_کے_مسائل #والدہ_کا_حصہ #بھائیوں_کا_حصہ #بہن_کا_حصہ #محروم_از_وراثت #عصبات #فرائض #فقہ_حنفی #رد_المحتار