info@fatwaaonline.com.pk
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
فتویٰ آن لائن

فتویٰ آن لائن

دارالافتاء





متوفی کی وہ بیوہ جس سے متوفی کی کوئی اولاد نہ ہو کا حصہ: چوتھائی یا آٹھواں؟


سوال: ایک شخص کا انتقال ہوچکا ہے، جس کی پہلی بیوی ( جو پہلے سے فوت شدہ ہے )اس کے بطن سے شخص مذکور کی دو بیٹیاں اور ایک بیٹا زندہ ہیں۔ ،دوسری بیوہ خود زندہ ہے ، اس کے بطن متوفی کی کوئی اولاد نہیں ہے۔ ہر ایک وارث کا شرعی حصہ بتا دیں۔ م 2۔ مذکورہ بیوہ جس سے متوفی کی کوئی اولاد نہیں ہے وہ کہتی ہے کہ مجھے چوتھا حصہ ملے گا؛ کیونکہ قرآن میں اسی طرح ہے۔۔۔ آیا ان کی یہ بات درست ہے ؟


جواب:

مسئلہ8/32 مضروب4 المعروف خان لودھی (متوفی)

میتـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

 بیوہ۔ بیٹا ۔بیٹی ۔بیٹی

1۔ 7

4 ۔14۔ 7۔ 7

برتقدیر صحت واقعہ صورت مسئولہ میں بعد ادائے قرض و وصیتِ جائزہ متوفی  کا کل ترکہ32حصے ہو کر حسبِ تفصیل بالا تقسیم ہوگا، ہر وارث کا حصہ اس کے نام کے نیچے درج ہے۔

باقی موجودہ بیوہ  کو شاید اس سے شبہہ ہوا ہے کہ قرآن کریم میں ہے کہ جس کی اولاد نہ ہوتو اس کی بیوہ کو چوتھا حصہ ملتا ہے تو سو اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ جب شوہر مرحوم کی اولاد نہ ہوتو اس کی بیوہ کو چوتھا حصہ ملتا ہے، جبکہ صورتِ مسئولہ میں تومتوفی  کی اولاد ہے، اگرچہ موصوفہ کے بطن سے نہیں ہے۔لہٰذا موصوفہ کو آٹھواں حصہ ہی ملے گا۔جیساکہ آیت قرآنی میں ہے: {وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ} [النساء: 12]

ترجمہ"اور ان بیویوں کو چوتھائی ملے گا اس ترکہ کا جس کو تم(مرد) چھوڑ جاؤ اگر تمہاری(مرد) کی کچھ اولاد نہ ہو، اور اگر تمہاری(مرد) کی کچھ اولاد ہو تو ان کو تمہارے ترکہ سے اٹھواں حصہ ملے گاوصیت نکالنے کے بعد تم اس کی وصیت کر جاؤ یا دین(قرض نکالنے) کے بعد"(بیان القرآن)

 فقط واللہ اعلم

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 319202610255

فتویٰ آن لائن


شوہر کی اولاد موجود ہونے کی صورت میں بیوہ کا حصہ: چوتھائی یا آٹھواں؟ #تقسیم_وراثت #بیوہ_کا_حصہ #اسلامی_وراثت #اولاد_کی_موجودگی #علم_الفرائض #شرعی_مسئلہ #دارالافتاء #قرآن_کی_آیت #فقہی_رہنمائی #ترکہ_کی_تقسیم