لاولد مرحومہ کے ترکہ کی تقسیم: شوہر اور بہن کا شرعی حصہ
سوال: ایک عورت فوت ہوگئی ہے، جس کی اولاد کوئی نہیں ہے۔ ورثاء میں شوہرایک بہن ہےزندہ ہیں۔ جبکہ ایک بہن پہلے فوت ہوگئی، اس کے ورثاء میں ۴ بیٹے اور ۲ بیٹیاں ہیں۔ ایک بھائی بھی پہلے فوت ہوگیا، جس کے ورثاء میں ۲ بیٹیاں ہیں۔مرحومہ کے والدین اس کی زندگی میں انتقال کرگئے تھے۔ مرحومہ کے والد اپنے والد کے اکلوتے بیٹے تھے۔رحمت اللہ کے بہن بھائی ہندوستان میں ہی رہ گئے تھے، ان کے ساتھ نہ کوئی رابطہ ہے اور نہ ہی ان کے بارے میں کوئی معلومات ہیں۔ ہر ایک شرعی حصہ بتادیں۔
جواب:
مسئلہ2
میتـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
شوہر۔ بہن، فوت شدہ بہن بھائیوں کی اولاد
1۔ 1۔محروم
بر تقدیر صحتِ واقعہ صورتِ مسئولہ میں بعد ادائے قرض و وصیتِ جائزہ مرحومہ کا کل ترکہ دو حصے ہو کرایک حصہ شوہر اور ایک حصہ بہن کو ملے گا۔ مرحومہ کی زندگی میں فوت شدہ بہن بھائی کی اولاد مرحومہ کے ترکہ سے شرعاً محروم رہیں گے۔
لما في رد المحتار:
(قوله إنما يكون بعد الموت) لأن كونهم ورثة لا يتحقق إلا بعد موت المورث
(الرد مع الدر، کتاب الفرائض، 6 / 687 ط: دارالفكر)
فقط واللہ اعلم
فقط واللہ اعلم
فتوی نمبر : 319202610257
فتویٰ آن لائن