کیا کم آمدنی والا شخص بیٹی کی شادی کے لیے زکوٰۃ لے سکتا ہے؟
سوال: سائل ہاکری کرتا ہے ، یومیہ ۴۰۰ روپیہ تک اوسطاً کما لیتا ہوں۔ بندہ کی کفالت میں ایک بیوی، چار بیٹیاں ہیں۔ کوئی بیٹا نہیں ہے۔ گھر کرایہ کا ہے۔ پاس کوئی سونا ،چاندی ، نقدی جمع شدہ کچھ بھی نہیں ہے۔ اب بیٹی کی شادی کرنی ہے۔ آیا میں زکوۃ لے سکتا ہوں؟
جواب:
زکوۃ و عشر وغیرہ اس شخص کیلئے لینا جائز ہے جو نصاب(یعنی کم از کم ساڑھے باون تولہ چاندی، یا اس کے بقدر رقم یا اتنی ہی مالیت کی ضرورت سے زائد اشیاء کا مالک نہ ہو۔ لہذا سائل کے تحقیق ِ حال سے یہی بات معلوم ہوجائے کہ یہ نصاب کا مالک نہیں ہے تو اس کو زکوۃ و عشر وغیرہ دینا شرعاً درست ہیں۔ پھر یہ اس رقم کو اپنی ضروریات میں خرچ کرے یا بیٹی کے جہیز کا سامان خریدے، بہرصورت شرعاً درست ہے۔
لما في الدر المختار:
مصرف الزكاة والعشر۔۔۔ (هو فقير، وهو من له أدنى شيء) أي دون نصاب أو قدر نصاب غير نام مستغرق في الحاجة
(الدرمع الرد، كتاب الزكوة، 2/ 339 ط: دارالفكر)
واضح رہے کہ استحقاق کا مدار فقر پر ہے ، بیٹی کی شادی کی ضرورت پر نہیں ہے۔
فقط واللہ اعلم
فقط واللہ اعلم
فتوی نمبر : 319202610260
فتویٰ آن لائن