حقیقی بھائی کی موجودگی میں علاتی بہن بھائیوں کا وراثت میں حکم
سوال: ایک شخص فوت ہوگیا، جس کے ورثاء میں ایک حقیقی بھائی، ایک علاتی بھائی اور دو علاتی بہنیں حیات ہیں۔مرحوم کی اولاد کوئی نہیں ہے اور مرحوم کے والدین اور بیوی کا انتقال پہلے مرحوم کی زندگی میں ہی ہوگیا تھا ۔ترکہ میں زمین 5 کنال 8 مرلےہے۔ ہر ایک کا شرعی حصہ بتادیں۔
جواب:
مسئلہ1 ۔۔۔۔۔۔(متوفی)
میتـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
حقیقی بھائی ۔علاتی بھائی۔ 2علاتی بہنیں
1۔محروم ۔محروم
بر تقدیرِ صحتِ واقعہ صورت مسئولہ میں بعد ادائے قرض و وصیتِ جائزہ متوفی کے کل ترکہ کا حقدار اس کا حقیقی بھائی ہے۔علاتی بھائی اور علاتی بہنیں حقیقی بھائی کے موجود ہونے کی وجہ سے متوفی کے ترکہ سے شرعاً محروم رہیں گے۔ جیساکہ سراجی میں ہے:
ويسقط بنو العلّات أيضا بالأخ لأب وأم۔۔۔الخ (باب الأحوال، فصل في النساء، أحوال الأخت لأب ، ص43 ط:بشرى مجلد)
فقط واللہ اعلم
فقط واللہ اعلم
فتوی نمبر : 324202610272
فتویٰ آن لائن