info@fatwaaonline.com.pk
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
فتویٰ آن لائن

فتویٰ آن لائن

دارالافتاء





لے پالک بچی کو غیر حقیقی باپ کی طرف منسوب کرنے کا شرعی حکم


سوال: من مقر کی بیٹی پیدا ہوئی ہے، پیدائش سے قبل ہی بڑے بھائی نے کہا تھا کہ یہ بچہ ہم لیں گے اور ہم میاں بیوی نے بھی انہی کو دینا طے کیا تھا۔ پیدائش کے دو گھنٹے بعد وہ بچی لے گئے ۔ اب ولدیت میں بھائی چاہتے ہیں کہ میں اپنا نام دوں، آیا ایسا کرناشرعاً کیسا ہے؟


جواب:

چلے پالک بچی کے شناختی کارڈ اور دیگر دستاویزات وغیرہ میں اس کے حقیقی والد کا نام لکھنا ضروری ہے، پالنے والے کا نام لکھنا بالکل جائز نہیں ہے۔

چنانچہ  ارشادِ خداوندی ہے:

 {ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ} [الأحزاب: 5]

ترجمہ: "ان کو انکے باپوں کے نام سے پکارو، یہی اللہ(تعالیٰ) کے ہاں زیادہ انصاف والا(معاملہ) ہے"

 اور تفسیر روح المعانی میں ہے:

 ويعلم من الآية أنه لا يجوز إنتساب الشخص إلى غير أبيه

 (روح المعاني، الأحزاب: 5، 21/ 149 ط: إحياء التراث العربي)

 ترجمہ: "اور آیت سے یہ بات معلوم ہوگئی کہ کسی شخص کو اس کے والد کے غیر کی طرف منسوب کرنا جائز نہیں ہے"

 نیز  نبی کریمﷺ نے ایسے شخص کے بارے میں جو جان بوجھ کر اپنے آپ کو حقیقی والد کے غیر کی طرف منسوب کرے، اس پر جنت کو حرام قرار دیا ہے۔

 عن سعد رضي الله عنه، قال سمعت النبي صلى الله عليه وسلم، يقول: «من ادعى إلى غير أبيه، وهو يعلم أنه غير أبيه، فالجنة عليه حرام»

 (صحيح البخاري، كتاب الفرائض، باب من ادعى إلى غير أبيه، رقم الحديث: 6766، 8/ 156 ط: دار طوق النجاة)

الحاصل ولدیت میں حقیقی والد کے بجائے پالنے والے کا نام لکھنا حرام وگناہ ہے۔حقیقی والد کا نام لکھنا ضروری ہے۔

 فقط واللہ اعلم

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 324202610273

فتویٰ آن لائن


لے پالک بچی کو غیر حقیقی باپ کی طرف منسوب کرنے کا شرعی حکم لے پالک بچی کو غیر حقیقی باپ کی طرف منسوب کرنے کا شرعی حکم #نسب_کا_حکم #ولدیت_کے_مسائل #گود_لینا #لے_پالک_اولاد #شناختی_کارڈ #اسلامی_قانون #حرمت_نسب #قرآن_و_حدیث #فقہ_حنفی #صحیح_بخاری