بیوہ اور بھائیوں کی موجودگی میں ترکہ کی تقسیم کا شرعی طریقہ
سوال: میرے بھائی کا انتقال ہو چکاہے، ورثاء میں ایک بیوہ، دو بھائی زندہ ہیں۔مرحوم کی اولاد پیدا ہونے کے ایک دن بعد اتنقال کر گئی تھی۔اور والدين كا انتقال مرحوم کی زندگی میں ہی ہوگیا تھا۔ ہر ایک کا شرعی حصہ بتا دیں۔
جواب:
مسئلہ4/8 مضروب2 (متوفی)
میتــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
بيوه ۔بھائی۔ بھائی
2 ۔3 ۔3
بر تقدیر صحت واقعہ صورت مسئولہ میں بعد ادائے قرض و وصیتِ جائزہ متوفی کاکل ترکہ 8(آٹھ) حصے ہوکر حسب تفصیل ِبالا تقسیم ہوگا، دو حصے بیوہ کو اور تین تین حصے ہر بھائی کو ملیں گے ، ہر وارث کا حصہ اس کے نام کے نیچے درج ہے۔
فقط واللہ اعلم
فقط واللہ اعلم
فتوی نمبر : 326202610275
فتویٰ آن لائن
بیوہ اور بھائیوں کی موجودگی میں ترکہ کی تقسیم کا شرعی طریقہ #تقسیم_ترکہ #وراثت_کے_مسائل #بیوہ_کا_حصہ #بھائیوں_کا_حصہ #بغیر_اولاد_وراثت #عصبات #فرائض #فقہ_حنفی #ترکہ_کی_تقسیم