info@fatwaaonline.com.pk
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
فتویٰ آن لائن

فتویٰ آن لائن

دارالافتاء





بیعِ عینہ: اپنا بیچا ہوا موبائل کم قیمت پر دوبارہ خریدنا جائز ہے؟


سوال: میں اپنی کھاتہ دار پارٹی یا فرد کو ادھار کوئی موبائل دیتا ہوں، جس کی قیمت مثلاً 30000 روپے ہے، وہ موبائل لے جاتا ہے اور اسے قسطوں پر کسی تیسرے فرد کو دے دیتا ہے، اب وہ تیسرا فرد کہتا ہے کہ میں نے یہ موبائل بیچنا ہے، پھر یہ کہتا ہے کہ میں نے یہ موبائل آپ کو قسطوں پر دیا ہے، لہٰذا میں دوبارہ نقد کم قیمت پر اس کو نہیں لے سکتا ، ہاں البتہ ایک دکاندار بتاتا ہوں، جو یہ لے لے گا، یوں وہ گاہک کو میرے پاس بھیج دیتاہے، موبائل ڈبہ بند ہوتا ہے، میں اس سے 29000 يا 28000 میں لے لیتا ہوں۔ آیا میرا کم قیمت پر لینا جائز ہے؟ دوسری بات یہ ہے کہ دکاندار اس طرح روزانہ ایک یا دو گاہک بھیجتا ہے، کیا میں اپنی مرضی کے ریٹ پر لے سکتا ہوں؟جبکہ گاہک کو زیادہ نقصان بھی نہ ہو۔ہر موبائل جو واپس آتا ہے، ہر بار گاہک مختلف ہوتا ہے۔ نیز اس موبائل کے خریدنے میں سارا پیسہ میرا ہوگا، میری پارٹی کا اس میں کوئی کمیشن نہیں ہوگا۔


جواب:

صورتِ مسئولہ میں سائل ہی کی بیچی ہوئی چیز دوبارہ سائل کے پاس کم قیمت پر لوٹ آئی، جو کہ بیع عینہ کے مشابہ ہونے کی وجہ سے  مکروہ  ہے۔

لما في رد المحتار:

 ثم قال في الفتح ما حاصله: إن الذي يقع في قلبي أنه إن فعلت صورة يعود فيها إلى البائع جميع ما أخرجه أو بعضه كعود الثوب إليه في الصورة المارة وكعود الخمسة في صورة إقراض الخمسة عشر فيكره يعني تحريما، فإن لم يعد كما إذا باعه المديون في السوق فلا كراهة فيه بل خلاف الأولى، فإن الأجل قابله قسط من الثمن، والقرض غير واجب عليه دائما بل هو مندوب وما لم ترجع إليه العين التي خرجت منه لا يسمى بيع العينة؛ لأنه من العين المسترجعة لا العين مطلقا وإلا فكل بيع بيع العينة اهـ، وأقره في البحر والنهر والشرنبلالية وهو ظاهر، وجعله السيد أبو السعود محمل قول أبي يوسف، وحمل قول محمد والحديث على صورة العود.

 (كتاب الكفالة، مطلب بيع العينة، 5/ 326 ط:دارالفكر)

 فقط واللہ اعلم

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 330202610280

فتویٰ آن لائن


بیعِ عینہ: اپنا بیچا ہوا موبائل کم قیمت پر دوبارہ خریدنا جائز ہے؟ #بیع_عینہ #خرید_و_فروخت #اسلامی_معاشیات #قسطوں_کا_معاملہ #فقہی_مسائل #دارالافتاء #شرعی_رہنمائی