نابالغ بچیوں کا نکاح: ولی کی اجازت سے درست یا باطل؟
سوال: نابالغ بہنوں کا نکاح والد کی اجازت اور مرضی کے مطابق ایک جگہ کردیا گیا ، تو بالغ ہونے پر انہیں خیارِ بلوغ حاصل ہوگا؟ کیا نابالغ بچیوں سے بھی ایجاب وقبول کی ضرورت ہوتی ہے ؟ بعد میں اگروالد خود یا لڑکی رخصتی سے انکار کردے تو کیا اسے انکار کا حق ہے؟ اگر والد دوسری جگہ نکاح کردے تو پھر کیا حکم ہے؟
جواب:
واضح رہے کہ جب والد اپنی نا بالغ بچی کا نکاح کروا دے تو وہ منعقد ہوکر لازم ہوجاتا اور بالغ ہونے پر خیارِ بلوغ حاصل نہیں ہوتا۔نکاح منعقد ہونے کیلئے بچیوں سے ایجاب وقبول کرانے کے لغو عمل کی ضرورت نہیں ہے۔
لما في فتح القدير للكمال ابن الهمامؒ:
(فإن) (زوجهما الأب والجد) يعني الصغير والصغيرة (فلا خيار لهما بعد بلوغهما)
(كتاب النكاح، باب الأولياء، 3/ 277 ط: دارالفکر)
والد یا لڑکی کا رخصتی سے انکار کرنا شرعاً جائز نہیں ہے۔ اور دوسری جگہ نکاح کرنا شرعاً حرام و ناجائزہے۔
لما فی الفتاوى الهندية:
لا يجوز للرجل أن يتزوج زوجة غيره وكذلك المعتدة.
(کتاب النکاح، 1 / 280 ط:دارالفکر)
ولما فی البحر الرائق:
والسادس المحرمة لحق الغير كمنكوحة الغير ومعتدته۔۔۔
(کتاب النکاح،8 / 10 ط: دارالکتاب الإسلامي)
فقط واللہ اعلم
فقط واللہ اعلم
فتوی نمبر : 330202610279
فتویٰ آن لائن