غلط نام سے طلاق نامہ لکھ دیا تو طلاق واقع نہ ہوگی
سوال: بعض وجوہات کی بنا پر میرے گھر والوں کی طرف سے یہ مطالبہ تھا اپنی بیوی کو طلاق دیدو، جبکہ میں طلاق نہیں دیناچاہتا تھا ، میرے گھر والوں کو میری بی وی کے نام کا صحیح علم نہیں تھا ،اس لیے میں نے پہلے اپنی بیوی کے اصل نام کی بجائے ایک فرضی نام سے نکاح نامہ بنایااور پھر اسی فرضی نام سے طلاق نامہ بنا دیا، اور گھر والوں کو مطمئن کردیا۔ اب پوچھناہے کہ طلاق واقع ہوئی ہے یا نہیں؟
جواب:
بر تقدیرِ صحتِ واقعہ صورتِ مسئولہ میں کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی۔
لما فی الدر المختار:
الطلاق (هو) ۔۔۔ شرعا (رفع قيد النكاح في الحال) بالبائن (أو المآل) بالرجعي (بلفظ مخصوص) هو ما اشتمل على الطلاق (الدر مع الرد، كتاب الطلاق، 3/ 226 ط: دارالفكر)
ولما فی البحر الرائق:
وفي المحيط الأصل أنه متى وجدت النسبة وغير اسمها بغيره لا يقع لأن التعريف لا يحصل بالتسمية متى بدل اسمها لأن بذلك الاسم تكون امرأة أجنبية
(البحر مع منحة الخالق وتكملة الطوري، کتاب الطلاق، 3/ 273 ط: دارالکتاب الإسلامی)
فقط واللہ اعلم
فقط واللہ اعلم
فتوی نمبر : 428202610287
فتویٰ آن لائن