خفیہ نکاح کے بعد اعلانیہ نکاح کرنا اور چھ ماہ سے قبل بچے کی پیدائش کی صورت میں نسب کس سے ثابت ہوگا
سوال: من مقرنے والدین سے چھپ کر ایک عورت سے نکاح کرلیا تھا، پھر والدین نے دوسرا نکاح برادری کی لڑکی سے وٹہ سٹہ میں کردیا۔ پھر خاندان والوں کو پہلے نکاح کا علم ہوگیا تو میں نے برادری کی موجودگی میں اعلانیہ نکاح کیا، جس کے تقریباً پانچ ماہ بعد بچہ پیدا ہوگیا۔ اب بعض اعتراض کرتے ہیں کہ یہ بچہ حلالی نہیں ہے، آیا ان کی یہ بات درست ہے؟
جواب:
خفیہ نکاح کے بعد اعلانیہ نکاح کرنے کی شرعاً گنجائش ہے، اس سے سابقہ نکاح پر فرق نہیں پڑتا۔ یہ بچہ شرعاً ثابت النسب ہے سائل کا ہی شمار ہوگا۔عورت جس کے نکاح میں ہو بچہ اس کاہی شمار ہوتا ہے جب تک کہ خاوند اس کا انکار نہ کرے او رانکار کی صورت میں بھی لعان کے عمل کے بعد بچے کا نسب اس سے منقطع ہوتا ہے۔
لما في الدر المختار:
(ويثبت النسب) احتياطا بلا دعوة (وتعتبر مدته) وهي ستة أشهر (من الوطء، فإن كانت منه إلى الوضع أقل مدة الحمل) يعني ستة أشهر فأكثر (يثبت) النسب
(الدر مع الرد، كتاب النكاح، باب المهر، مطلب في النكاح الفاسد، 3/ 134 ط:دار الفكر)
فقط واللہ اعلم
فقط واللہ اعلم
فتوی نمبر : 428202610290
فتویٰ آن لائن