info@fatwaaonline.com.pk
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
فتویٰ آن لائن

فتویٰ آن لائن

دارالافتاء





وراثتی/مشترکہ مکان کی تعمیر میں ایک فریق کی اجازت سے رقم خرچ کرنے کا حکم


سوال: میری والدہ محترمہ کا انتقال ہوچکا ہے، ورثاء میں شوہر، سات بیٹیاں اور چار بیٹے ہیں۔۔۔۔ مرحومہ کے والدین کا انتقال ان کی زندگی میں ہی ہوگیا تھا۔ ترکہ میں ایک مکان تھا، جس کو فروخت کرنے سے 16،75،000 روپے حاصل ہوئے ہیں، نیز مذکورہ مکان میں تعمیرات کی مد میں ایک بیٹے مسمی عامر علی نے 1،50،000 روپےلگائے تھے اور رقم لگاتے وقت والدہ سے یہ طے ہوا تھا کہ آج لگا لو، کل کو جب مکان فروخت ہوگا تو اپنے پیسے وصول کرلینا اور اس بات پر والد، چچا، چچی اور ایک پڑوسی مسمی منظور حسین گواہ ہیں۔ آیا ڈیڈھ لاکھ کا کیا حکم ہے؟ نیز ہر وارث کا حصہ شرعی بتلا دیں۔ جزاكم الله خيراً


جواب:

صورتِ مسئولہ میں اگر رقم خرچ کرنے والے بیٹے کے  پاس اپنی اس بات پر شرعی گواہ  موجود ہیں تو اولاً کل ترکہ سے 1،50،000 روپے وصول کئے جائیں گے ، اس کے بعد ترکہ درج ذیل تفصیل کے مطابق تقسیم ہوگا۔

مسئلہ4/ 60 مضروب15             

میتــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

شوہر ۔بیٹا ۔بیٹا۔ بیٹا ۔بیٹا ۔بیٹی ۔بیٹی ۔بیٹی ۔بیٹی ۔بیٹی۔ بیٹی ۔بیٹی

15۔  6۔  6 ۔  6۔   6۔    3۔    3 ۔   3 ۔   3 ۔     3۔    3۔     3

بر تقدیرِ صحتِ واقعہ صورت مسئولہ میں بعد ادائے قرض و وصیتِ جائزہ متوفیہ کا کل ترکہ 60 حصے ہو کر حسبِ تفصیلِ بالا تقسیم ہوگا، ہر وارث کا حصہ اس کے نام کے نیچے درج ہے

فقط واللہ اعلم

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 428202610291

فتویٰ آن لائن


شرعی اصول کے مطابق جائیداد کی تقسیم کا طریقہ #میراث #تقسیم_ترکہ #وراثت #اسلامی_وراثت #حصص #فقہ_حنفی #خاندانی_مسائل #قرض #اسلامی_احکام #دارالافتاء