حقیقی بھائی کی موجودگی میں پدری بہن بھائیوں کی وراثت: حصہ یا محرومی؟
سوال: ایک شخص کا انتقال ہوگیا ہے، ورثاء میں ایک بیوہ، والدہ، ایک حقیقی بھائی، تین حقیقی بہنیں اورایک علاتی بہن ہیں۔ ان کے علاوہ دو علاتی بھائی اور دو علاتی بہنوں کا پہلے انتقال ہوچکا ہے۔مرحوم کے والد اس کی زندگی میں ہی انتقال کرگئے تھے۔ہر ایک کا شرعی حصہ بتا دیں۔
جواب:
مسئلہ12/60 ۔۔۔۔مضروب5 ۔۔(متوفی)
میتـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
بیوہ ۔والدہ ۔حقیقی بھائی ۔حقیقی بہن ۔حقیقی بہن ۔حقیقی بہن ۔پدری بہن بھائی
3 ۔2 ۔7۔ محروم
15۔ 10۔ 14 ۔7 ۔7 ۔7
بر تقدیرِ صحتِ واقعہ صورت مسئولہ میں بعد ادائے قرض و وصیتِ جائزہ متوفی کا کل ترکہ 60حصے ہو کر حسبِ تفصیلِ بالا تقسیم ہوگا، ہر وارث کا حصہ اس کے نام کے نیچے درج ہے۔
واضح رہے کہ حقیقی بھائی کی موجودگی میں باپ شریک بہن بھائی ترکہ سے شرعاً محروم ہوتے ہیں، جیساکہ سراجی میں ہے:
ويسقط بنو العلّات أيضا بالأخ لأب وأم۔۔۔الخ
(باب الأحوال، فصل في النساء، أحوال الأخت لأب ، ص43 ط:بشرى مجلد)
لہٰذا اگر مرحوم کے تمام باپ شریک بہن بھائی زندہ ہوتے تب بھی وہ مرحوم کے ترکہ سے حقیقی بھائی کی وجہ سے شرعاً محروم رہتے ۔
فقط واللہ اعلم
فقط واللہ اعلم
فتوی نمبر : 330202610281
فتویٰ آن لائن