نماز عیدین میں مسبوق اپنی نماز کیسے پوری کرے؟
سوال: نماز عیدین میں مسبوق اپنی نماز کیسے پوری کرے؟
جواب:
عیدین کی نماز اللہ تعالیٰ کی طرف سے مسلمانوں کیلئے ایک تحفہ اور گناہوں کی بخشش کا ذریعہ ہے۔چنانچہ جنابِ نبی کریمﷺ کا فرمان عالی شان ہےکہ جب عید الفطر کا دن ہوتا تو فرشتے راستوں کے سروں پر کھڑے ہوجاتے ہیں اور آواز لگاتے ہیں: اے مسلمانو! آؤ اپنے کریم پروردگار کی بارگاہ میں جو اپنے کرم و احسان سے بندوں کو نیکیوں کی توفیق دیتا ہے اور پھر اس پر اجر عظیم عطاء فرماتا ہے۔ تمہیں رات کی عبادت کا حکم ہواتم نے وہ پورا کیا، تمہیں دن کے روزہ کا حکم ہوا تم نے وہ بھی پورا کیااور اب اپنے رب کی فرمانبرداری کرکے دکھائی، اب اپنے انعامات لے جاؤ، پھر جب نمازِ عید سے فارغ ہوجاتے ہیں تو ایک پکارنے والا آواز لگاتا ہے: لوگو! یقیناً تمہارے پروردگار نے تم سب کو بخش دیا، پس جاؤ تم کامیاب و بامراد اپنے گھروں کو لوٹ جاؤ۔اس طرح یہ دن انعام کا دن ہے اور ملأ اعلیٰ میں بھی اس دن کا نام"انعام کا دن" ہی ہے۔(ترجمہ از "عیدین کے مسائل کا انسائیکلوپیڈیا ص۲۰۱)
عن سعيد بن أوس الأنصاري عن أبيه قال: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم-: " «إذا كان يوم عيد الفطر وقفت الملائكة على أبواب الطريق فنادوا: اغدوا يا معشر المسلمين إلى رب كريم يمن بالخير ثم يثيب عليه الجزيل، لقد أمرتم بقيام الليل فقمتم، وأمرتم بصيام النهار فصمتم وأطعتم ربكم فاقبضوا جوائزكم، فإذا صلوا نادى مناد: ألا إن ربكم قد غفر لكم فارجعوا راشدين إلى رحالكم، فهو يوم الجائزة ويسمى ذلك اليوم في السماء يوم الجائزة " - وفي رواية: " رب رحيم " بدل " رب كريم " - فقال: " قد غفرت لكم ذنوبكم كلها» "
(مجمع الزوائد ومنبع الفوائد، كتاب الصلاة، أبواب العيدين، باب فضل يوم العيد، 2/ 201 ط: مكتبة القدسي)
لیکن اس قیمتی اور نادر موقع سےفائدہ نہ اٹھانے والا اور نماز میں شرکت نہ کرنے والا حقیقتاً محروم ہے۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس محرومی سے بچائے ۔ آمین
اس عظیم الشان موقع پر بھی بعض لوگ غفلت کا شکا ہوجاتے ہیں اور اسی کوشش میں ہوتے ہیں کہ ہم اس وقت نماز کیلئے حاضر ہوں جب امام تکبیر کہہ کر جماعت شروع کرنے والا ہو۔ اور یہ مزاج شریعت کے ہم آہنگ نہیں ہے۔جیسے ہم دنیاوی مقدمات کیلئے عدالت بروقت بلکہ پہلے پہنچتے ہیں تو یقیناً اللہ کا دربار اس سے کئی گنا زیادہ مستحق ہے کہ ہم وقت سے پہلے پہنچیں۔
باقی اگر کوئی عیدین کی نماز میں مسبوق ہو جائے اس کی آٹھ صورتیں ہیں، ہر ایک کی تفصیل حسبِ ذیل ہے:
۱۔ آدمی اس حال میں آیا کہ امام تکبیراتِ زوائد کہہ کر قرآت شروع کرچکا تھا تو یہ تکبیرِ تحریمہ کرپہلے تکبیراتِ زوائد کہہ پھر امام کی قرآت کا سماع کرے۔
۲۔ آدمی اس حال میں آیا کہ امام رکوع میں جاچکا تھا تو اگر اس کو اس بات کی امید ہو کہ میرے تکبیرات زوائد ادا کرنے تک رکوع مل جائے گا تو یہ تکبیرِ تحریمہ کہہ کر تکبیرات زوائدکہے پھر رکوع کی تکبیر کہہ کر رکوع میں شامل ہوجائے۔
۳۔ اگر اس بات کا اندیشہ ہوکہ تکبیرات زوائد کہنے کی صورت میں رکوع رہ جائے گا تو تکبیرِ تحریمہ کہنے کے بعد رکوع کی تکبیر کہہ کر رکوع میں چلا جائے اور بغیر ہاتھ اٹھائے تکبیرات زوائد کہنے کے بعد رکوع کی تسبیح پڑھے۔
۴۔ مذکورہ صورت میں تکبیرات زوائد ہی کہے تھے کہ امام کھڑا ہو گیا تو رکوع کی تسبیحات چھوڑ کر قومہ کیلئے کھڑا ہوجائے۔
۵۔ اور اسی مذکورہ صورت میں تکبیرات زوائد بھی پوری ادا نہیں کی تھی کہ امام کھڑا ہوگیا تو یہ بھی امام کی اتباع میں کھڑا ہوجائے اور بقیہ تکبیرات اس سے ساقط ہوگئیں۔
۶۔ اگرکوئی امام کے ساتھ دوسری رکعت میں مذکورہ احوال میں سے کسی حال میں شامل ہوا تو اس کا بھی یہی حکم ہے جو پہلی رکعت میں شامل ہونے والا کا ہے۔
۷۔ اگر کوئی امام کے ساتھ شامل ہوا اس حال میں کہ امام پہلی رکعت کا رکوع کرچکا تھا، یا پہلی رکعت ادا کرچکا تھا تو دوسری رکعت امام کے ساتھ پڑھنے کے بعد کھڑے ہوکرپہلے ثناء، تعوذ، تسمیہ،سورۃ الفاتحہ ، کوئی سورت پڑھنے کے بعد تکبیراتِ زوائد ادا کرے پھر رکوع سجدہ کرکے نماز پوری کرلے۔
۸۔ اگر کوئی امام کے ساتھ دوسری رکعت کے رکوع کے بعد شامل ہوا تو اب یہ امام کے سلام کے بعد پہلی رکعت میں ثناء کے بعد قرآت سے پہلے اور دوسری رکعت میں قرآت کے بعد تکبیرات زوائد کہے اور رکوع سجدہ کرکے نماز پوری کرلے۔
فقط واللہ اعلم
فقط واللہ اعلم
فتوی نمبر : 522202610301
فتویٰ آن لائن