حدیثِ نبوی کا انکار کرنے والے کا شرعی حکم
سوال: اگر کوئی مسلمان کسی حدیث کا سرے سے انکار کرے کہ ان کا اعتبار نہیں۔ یہ ایک انسان کی باتیں ہیں۔ ایسے شخص کے بارے میں حکمِ شرعی کیا ہے؟نیز یہ اگر فوت ہوجائے تو جنازہ کا حکم کیا ہے؟
جواب:
شاہ عبد العزیز دہلوی رحمۃ اللہ علیہ منکرین حدیث کا حکم تفصیل سے بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
اس مسئلہ میں چند احتمالات ہیں:
اول یہ کہ تمام حدیثوں کا انکار کرے یہ بعینہ کفر ہے۔
دوسرے یہ کہ حدیثِ متواتر کا انکار کرے اور اس میں کوئی تاویل نہ کرے، یہ بھی کفر ہے۔
تیسرے یہ کہ صحیح احادیث میں سے ''آحاد '' کا انکار کرے اور یہ انکار خواہشِ نفسانی سے ہو، اس وجہ سے کہ وہ حدیث طبیعت کے موافق نہ ہو یا دنیوی مصلحت کے خلاف ہو یہ گناہِ کبیرہ ہے، ایسا منکر بدعتی ہے، یعنی بدعتِ سیئہ کرتا ہے۔
چوتھے یہ کہ اس وجہ سے حدیث کا انکار کرے کہ اس کے خلاف کوئی دوسری حدیث قوی تر ہو یا یہ کہ ناقل کے قول پر اس کو اعتماد نہ ہو اس وجہ سے وہ شخص یہ سمجھتا ہو کہ فی الواقع یہ حدیث نہیں ہے اور اس خیال سے اس کو اس حدیث سے انکار ہو اور یہ انکار خواہشِ نفسانی سے نہ ہو اور نہ کسی دنیوی غرض سے ہو اور اپنے کلام کی سر سبزی بھی منظور نہ ہو اور نہ کوئی دوسری غرض فاسدہ مقصود ہو، بلکہ اس وجہ سے اس کو انکار ہو کہ وہ حدیث اس کے گمان میں علمِ اصولِ حدیث کے قواعد کے خلاف ہو یا کسی آیتِ قرآنی کے خلاف ہو یا ایسی ہی کوئی اور مناسب وجہ انکار کی اس کے نزدیک ہو تو ایسے انکار میں کچھ حرج نہیں۔
(فتاوی عزیزی از شاہ عبد العزیز دہلوی رحمۃ اللہ علیہ، عنوان :مسائلِ فقہ 1/441 ط:سعید)
مذکورہ تفصیل کے مطابق پہلی و دوسری صورت کے عقیدہ والے کا جنازہ نہ پڑھا جائے ۔ تیسری و چوتھی صورت کے عقیدہ والے کا جنازہ پڑھا جائے گا۔
فقط واللہ اعلم
فقط واللہ اعلم
فتوی نمبر : 522202610302
فتویٰ آن لائن