کیا زکوٰۃ کی رقم سے عمرہ کیا جاسکتا ہے؟
سوال: ایک آدمی مستحق زکوۃ ہے، اسے کسی نے زکوۃ کی رقم اتنی دی ہے کہ اگر وہ عمرہ کرنا چاہے تو کرسکتا ہے۔ آیا اس سے وہ عمرہ کرسکتا ہے؟ نیز عمرہ کرنے کی صورت میں زکوۃ دینے والے کی زکوۃ ادا ہوجائے گی؟
جواب:
واضح رہے کہ کسی مستحق کو ضرورت کے بغیر اتنی رقم دینا کہ وہ خود صاحبِ نصاب بن جائے مکروہ ہے، البتہ زکاۃ ادا ہوجائے گی،لیکن اگر وہ ضرورت مند ہو بایں طور پر کہ وہ بھاری رقم سے مقروض ہو یا اس کے عیال میں افراد اتنے زیادہ ہوں کہ اگر یہ رقم ان پر تقسیم کی جائے تو وہ صاحب نصاب نہ ہوں ایسے کثیر العیال شخص کو زیادہ رقم یک مشت دی جائےتو مکروہ نہیں ہوگا، بلاکراہت زکاۃ ادا ہوجائے گی۔البتہ جب وہ یک مشت زکوٰۃ کی رقم وصول کرکے نصاب کے بقدر رقم کا مالک بن گیا تو اب اس کو دوبارہ زکوٰۃ دینا جائز نہیں ہوگا۔
الدر المختار میں ہے:
"(و كره إعطاء فقير نصاباً) أو أكثر (إلا إذا كان) المدفوع إليه (مديوناً أو) كان (صاحب عيال) بحيث (لو فرقه عليهم لايخص كلا) أو لايفضل بعد دينه (نصاب) فلايكره، فتح".
(الدر المختار مع رد المحتار،353/2، سعید)
واضح رہے کہ مستحقِ زکوۃ اگر زکوۃ کی رقم لے لے تو اس کا مالک بن جاتا ہے اور زکوۃ دہندہ کی زکوۃ ادا ہوجاتی ہے۔ اسکے بعد زکوۃ لینے والا چونکہ اس رقم کا مالک بن گیا ہے، لہٰذا اسکی مرضی ہےکہ جہاں خرچ کرنا چاہے، کرسکتا ہے، چاہے تو عمرہ کرے یا دوسری ضروریات میں صرف کرے۔
لما في مجلة الأحكام العدلية:
كل يتصرف في ملكه كيفما شاء
(الكتاب العاشر في الشركات، الباب الثالث في بيان المسائل المتعلقة بالحيطان والجيران، الفصل الأول: في بيان بعض قواعد أحكام الأملاك، رقم المادة:1192، ص: 230 ط:نور محمد كتب خانه)
فقط واللہ اعلم
فقط واللہ اعلم
فتوی نمبر : 522202610303
فتویٰ آن لائن