قعدۂ اولیٰ بھول جانے والے امام کی نماز کا شرعی حکم
سوال: ایک آدمی (خالد) عشاء کے فرض پڑھا رہا تھا کہ قعدہ اولیٰ پر بیٹھنے کے بجائے کھڑا ہوگیا، پھر مکمل کھڑے ہونے کے بعد یاد آنے پر وہ دوبارہ قعدہ اولیٰ میں بیٹھ گیا پھر آخر میں سجدہ سہو کرلیا۔۔۔ آیا نماز ادا ہوگئی یا نہیں؟ جبکہ ایک صاحب (جمیل) کہتے ہیں کہ نماز ٹوٹ گئی، آیا ان کی یہ بات درست ہے؟بينوا فتؤجروا
جواب:
صورتِ مسئولہ میں قعدہ اولیٰ سے مکمل کھڑا ہوجانے کی صورت میں اصل حکم یہی ہےکہ نماز جاری رکھے اور دوبارہ قعدہ اولیٰ کی طرف نہ لوٹے ، تاہم اگر لوٹ آئے اور آخر میں سجدہ سہو کرلے تو نماز ادا ہوگی؛ کیونکہ اس صورت میں فرض کا ترک لازم نہیں آتا بلکہ فرض میں تاخیر لازم آتی ہے، جس کا تدارک سجدہ سہو سے ہوجاتا ہے۔جمیل کی بات راجح نہیں ہے۔
لما فی الدر المختار:
(فلو عاد إلى القعود) بعد ذلك (تفسد صلاته) لرفض الفرض لما ليس بفرض وصححه الزيلعي (وقيل لا) تفسد لكنه يكون مسيئا ويسجد لتأخير الواجب (وهو الأشبه) كما حققه الكمال وهو الحق بحر
قال ابن عابدينؒ: (قوله وهو الحق بحر) كأن وجهه ما مر عن الفتح، أو ما في المبتغى من أن القول بالفساد غلط لأنه ليس بترك بل هو تأخير كما لو سها عن السورة فركع فإنه يرفض الركوع ويعود إلى القيام ويقرأ، وكما لو سها عن القنوت فركع فإنه لو عاد وقنت لا تفسد على الأصح اهـ
(الدر مع الرد، كتاب الصلاة، باب سجود السهو، 2/ 84 ط: دارالفكر)
فقط واللہ اعلم
فقط واللہ اعلم
فتوی نمبر : 522202610308
فتویٰ آن لائن