فقہ حنفی کے مطابق لاولد شخص کی وراثت
سوال: افتخار احمد فوت ہوچکے ہیں۔ ورثاء میں بیوہ(جس نے آگے دوسری شادی کرلی ہے)، والد، 3 بھائی، 1 بہن ہیں۔ والدہ کا انتقال مرحوم کی زندگی میں ہی ہوگیا تھا۔ مرحوم لاولد تھے۔ ترکہ میں ایک مکان ہے۔ ہر ایک کا شرعی حصہ بتادیں۔
جواب:
مسئلہ4 افتخار احمد(متوفی)
میتـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
بیوہ ۔والد ۔تین بھائی- ایک بہن
1--- 3------محروم
بر تقدیرِ صحتِ واقعہ صورت مسئولہ میں بعد ادائے قرض و وصیتِ جائزہ افتخار احمد(مرحوم) کا کل ترکہ 4حصے ہو کر حسبِ تفصیلِ بالا تقسیم ہوگا، ہر وارث کا حصہ اس کے نام کے نیچے درج ہے۔ایک حصہ بیوہ کواور باقی تین حصے متوفی کے والد کو ملیں گے ، والد کے موجود ہونے کی وجہ سے متوفی کےبہن بھائی شرعاً اس کے ترکہ کے حقدار نہیں۔
لما في رد المحتار:
وبنو الأعيان وبنو العلات كلهم يسقطون بالابن وابن الابن وإن سفل وبالأب بالاتفاق
(الرد مع الدر، كتاب الفرائض، 6/ 782 ط: دارالفكر)
فقط واللہ اعلم
فقط واللہ اعلم
فتوی نمبر : 522202610300
فتویٰ آن لائن