وراثتی دکان کی تقسیم، بہنوں کا حصہ اور بھائیوں کے حقوق
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے والد نے ۱۹۷۷ میں ایک دکان خریدی اور ہم تین نابالغ بیٹوں کے نام الگ الگ رجسٹری لگوا دی۔ پھر ۲۰۱۸ میں چوتھا بھائی(جو ۱۹۷۷ کے بعد پیدا ہوا تھا) کے بارے میں کہا کہ سب بھائی اپنے حصہ میں سے چوتھا حصہ اس کے نام کردیں۔سو ہم نے اس کے نام ھبہ کردیا۔اس موقع پر بہنوں نے کہا کہ بھائی کچھ ہمیں بھی دیں یا عمرہ کرادیں تو والد نے کہا :میں ان کو پابند نہیں کرتا ۔ اگر خود کرادیں تو ان کی مرضی ۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ: ۱۔ اس دکان میں بہنوں کا حصہ ہے یا نہیں ؟ ۲۔ اس دکان کی تین منزلیں ہیں ، جو والد نے اپنی زندگی میں مشرف دور میں بنواۓ ۔ تعمیر کے دوران والد صاحب کے پاس رقم ختم ہوگی تو بڑے بیٹے نے کچھ رقم والد کو تعمیر کی مد میں دی ۔ اب اس دکان کی دو منزلوں میں دوبھائی الگ الگ کاروبار کر رہے ہیں ۔ اور نیچے کی منزل کرایہ پر دی ہوئی ہے اور کریہ بڑا بھائی لیتا ہے ۔ جس کا پس منظر یہ ہے کہ کرایہ پہلے والد صاحب لیتے تھے ، پھر جب والد نے اپنی جائیدادتقسیم کی تو ایک بیٹی کا حصہ رہتا تھا ، جو والد نے کہا کہ میں دے دوں گا ۔ پھر بڑے بیٹے کو کہا کہ اس دکان کا کرایہ جمع کرکے اس کو حصہ دینا ہے ۔اب والد کی وفات کے بعد ایک بھائی کہتا ہے کہ اس بہن کا حصہ سب بھائی مل کر دیں ، جبکہ بڑا کہتا کہ اسی کرایہ سے دیں گے ۔ نیز جو دو بھائی دکان میں کاروبار نہیں کررہے ، ان کا مطالبہ ہے کہ حاصل ہونےوالا کرایہ ہمیں دیا جائے ، کیو نکہ باقی دوبھائی دکان میں کاروبار کررہے ہیں ۔ ۳۔ جس بھائی نے والد کو رقم دی تھی ، اب وہ مطالبہ کررہا ہے کہ مجھے وہ رقم دی جائے ، جبکہ حال یہ ہے کہ جب سے دکان بنی ہے ، اس سے پہلے سے لیکر آج تک تقریباًِ۲۵ سال سے زائد عرصہ سے وہ بھائی اس دکان میں کاروبار کررہاہے ۔ ۴۔ دو بھائیوں میں سے ایک کی اپنی ذاتی دکان بھی ہے ، وہ کرایہ پر دے رکھی ہے اور خود اس دکان میں بیٹھا ہوا ہے ۔ تو آیا مشتر کہ دکان میں صرف دو بھائیوں کا کاروبار کرنا اور باقی دو کو کچھ نہ دینا شرعا کیسا ہے؟ نوٹ: دکان تقریباً۷۰ فٹ کی ہے ۔ اس کو مزید تقسیم نہیں کر سکتے ۔
جواب:
۱۔ بر تقدیرِ صحتِ واقعہ صورت ِ مسئولہ میں مذکورہ دکان صرف بھائیوں کی ملکیت ہے، بہنوں کا اس کو والد کا ترکہ شمار کرکے حصہ کا مطالبہ کرنا شرعاً درست نہیں ہے، البتہ اگر شخص مذکور نے بیٹیوں کو کوئی جائیداد نہیں تو شخص مذکور یہ عمل اولاد کے درمیان عدمِ مساوات اور لڑکوں کو لڑکیوں پر ترجیح ہے ، جب کہ شریعت مطہرہ میں اولاد کے درمیان برابری اور کسی قسم کے ترجیحی سلوک ہے، جس پر آخرت میں مواخذے کا اندیشہ ہے ، لہٰذا بیٹوں کو چاہیے کہ وہ اپنی بہنوں کو بھی کم ازکم وراثت کے ضابطہ کے تحت حصہ دیدیں تاکہ اخروی مواخذے کا اندیشہ باقی نہ رہے۔
پہلے تین نابالغ بیٹوں کے حق میں ھبہ اس لئے تام ہے کہ یہ ھبہ للصغیر ہے، جوکہ جائز ہے۔ اور پھر تین بھائیوں کا چوتھے کا اپنے اپنے حصہ کے ربع کا ھبہ کرنا اس لئے درست ہے کہ یہ ناقابلِ تقسیم شئ کا ھبہ کرنا ہے، جو کہ جائز ہے۔ لما في تبيين الحقائق:
تجوز الهبة في محوز مقسوم وفي مشاع لا يقسم ولا تجوز في مشاع يقسم
(التبيين مع حاشية الشلبي ؒ، كتاب الهبة، 5/ 93 ط: المطبعة الكبرى الأميرية)
۲،۴۔ دکان چونکہ تمام بھائیوں کی مشترکہ ہے، اس میں تمام کا حق برابر ہے، صرف دو بھائیوں کا اس سے انتفاع شرعاً درست نہیں ہے۔ اس کی تمام منزلوں کا کرایہ لگوا لیا جائے اور اسے چار برابر حصہ میں تقسیم کرکے ہر بیٹا ایک حصہ کا مستحق ہے۔ اگر بیسمنٹ کا کرایہ دکان میں کاروبار نہ کرنے والے بھائی وصول کریں گے، تفصیل یہ ہے کہ اگر حاصل شدہ کرایہ کل دکان کے کرایہ کے دو حصوں سے زائد ہے تو زیادتی باقی دو میں ان کے حصص کے تناسب سے تقسیم ہوگی ۔
اور اگر حاصل شدہ کرایہ کل کرایہ کے دوحصوں سے کم ہے تو کمی مشترکہ دکان میں کاروبار کرنے والے بھائیوں پر ادا کرنا لازم ہوگی اپنے اپنے حصص کے تناسب سے۔
ولما في مجلة الأحكام العدلية:
تقسيم حاصلات الأموال المشتركة في شركة الملك بين أصحابهم بنسبة حصصهم
(الكتاب العاشر في الشركات، الفصل الثاني: في بيان كيفية التصرف في الأعيان المشتركة، رقم المادة:1073، ص: 206 ط:نور محمد كتب خانه)
ولما في أيضا:
كل واحد من الشركاء في شركة الملك أجنبي في حصة الآخر ولا يعتبر أحد وكيلا عن الآخر فلذلك لا يجوز تصرف أحدهما في حصة الآخر بدون إذنه , أما في سكنى الدار المشتركة وفي الأحوال التي تعد من توابع السكنى كالدخول والخروج فيعتبر كل واحد من أصحاب الدار المشتركة صاحب ملك مخصوص على وجه الكمال
(الكتاب العاشر في الشركات، الفصل الثاني: في بيان كيفية التصرف في الأعيان المشتركة، رقم المادة:1075، ص: 206 ط:نور محمد كتب خانه)
ولما في أيضا:
لو أجر أحد الشريكين المال المشترك لآخر وقبض الأجرة يعطي الآخر حصته منها ويردها إليه
(الكتاب العاشر في الشركات، الفصل الثاني: في بيان كيفية التصرف في الأعيان المشتركة، رقم المادة:1077، ص: 207 ط:نور محمد كتب خانه)
۳۔ چونکہ بڑے بھائی نے رقم لگاتے وقت کوئی معاہدہ طے نہ کیا تھاکہ بطور احسان و تبرع کے دے رہا ہوں، یا بطور قرض یا بطور شراکت دے رہا ہوں۔ اگر ایک جہت کی تعیین ہوتی تو اس کے احکام جاری ہوتے، لیکن یہاں کسی جہت کی صراحتاً تعیین نہیں کی گئی۔ بظاہر یہ بڑے بھائی کی طرف سے والد کے ساتھ احسان تھا، جیساکہ عام طور پر باپ کو پیسوں کی ضرورت پیش آنے پر بیٹے تعاون کرتے ہیں۔ بطور احسان دینے پر قرینہ یہ ہے کہ مذکورہ بیٹے نے والد کی حیات میں رقم کا کبھی مطالبہ نہیں کیا۔ نیز تعمیر سے لیکر اب تک اس میں یہ خود کاروبار کررہا ہے۔لہٰذا اب اس کا رقم کا مطالبہ کرنا بظاہر درست نہیں ہے۔
لما فی فيض الباري على صحيح البخاري:
ففي «القنية»: المتبرع لا يرجع فيما تبرع به
(كتاب الهبة، باب هبة الواحد للجماعة، 4/ 58 ط: دار الكتب العلمية)
هكذا في العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية (کتاب المداینات، 2/ 226 ط: دار المعرفة)
فقط واللہ اعلم
فقط واللہ اعلم
فتوی نمبر : 304202610193
فتویٰ آن لائن