info@fatwaaonline.com.pk
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
فتویٰ آن لائن

فتویٰ آن لائن

دارالافتاء





ایجاب و قبول کے بغیرنکاح نامہ پر دستخط سے نکاح ہوتا ہے یا نہیں؟ شرعی وضاحت


سوال: میں نے اپنی بیٹی مسماۃ کنول نورین کا نکاح مسمیٰ میاں محمد علی سے کرنا طے کیا، جس سلسلے میں بواسطہ نکاح خواں قاری عبداللطیف بتاریخ 30-10-2022 کو نکاح نامہ لکھا گیا اور اس پر دستخط پہلے کروا لئے تاکہ موقع پر حق مہر وغیرہ میں اختلاف پیدا نہ ہو۔نکاح اس موقع پر کرنا مقصود نہ تھا۔ واقعہ یہ ہوا کہ لڑکے والے میرے گھر میں آئے، وہاں ہم نے شرائط لکھ دیں اور لڑکے نے دستخط کردئیے ، پھر میں نکاح فارم لیکر دوسرے کمرے میں اپنی بیٹی سے دستخط کرانے کیلئے لے گیا۔باقی کوئی ایجاب وقبول نہ کرایا گیا۔ پھر وقتِ مقررہ پر نکاح ہونا تھا، لیکن قسمت کو منظور نہ ہوا اور نکاح نامہ پر دستخط ہوجانے کے بعد فریقین میں اختلاف ہوگیا اور رشتہ ختم ہوگیا۔ پوچھنا یہ ہے کہ نکاح نامہ پر دستخط کرانے سے نکاح منعقد تو نہیں ہوگیا؟ آیا میری بیٹی کا نکاح میں دوسری جگہ کرسکتا ہوں؟


جواب:

اگر واقعی  صورتِ مسئولہ میں نکاح سے پہلے نکاح نامہ پرصرف دستخط کیے گئے تھے ، اس کے بعد اختلاف کی وجہ سے ایجاب وقبول وغیرہ کے ساتھ نکاح   نہیں کیا گیا تو شرعا نکاح منعقعدنہیں ہوا؛کیونکہ نکاح صحیح ہونے کیلئے ضروری ہے کہ  فریقین کی طرف سے ایجاب و قبول گواہوں کے سامنے کیا جائے، جو یہاں مفقود ہے۔چنانچہ البحر الرائق میں ہے : 

 ولم يذكر المصنف شرائط الإيجاب والقبول فمنها اتحاد المجلس إذا كان الشخصان حاضرين فلو اختلف المجلس لم ينعقد فلو أوجب أحدهما فقام الآخر أو اشتغل بعمل آخر بطل الإيجاب

(البحر مع منحة الخالق وتكملة الطوري، كتاب النكاح، 3/ 89 ط:دارالكتاب الإسلامي)

 ۲۔ جوبول سکتے ہیں، اگر وہ لکھ کرنکاح کریں تو نکاح منعقد نہیں ہوتا۔

 لما في الدر المختار:

 (فلا ينعقد) ۔۔۔۔ ولا بكتابة حاضر بل غائب بشرط إعلام الشهود بما في الكتاب ما لم يكن بلفظ الأمر فيتولى الطرفين

 قال ابن عابدينؒ: (قوله: ولا بكتابة حاضر) فلو كتب تزوجتك فكتبت قبلت لم ينعقد

 (الدر مع الرد، كتاب النكاح، مطلب: التزوج بإرسال كتاب، 3/ 12 ط:دارالفكر)

 ۳۔ نکاح نامہ پر محض دستخط کرنے کو بذریعہ خط نکاح کرنا قرار نہیں دیا جاسکتا؛کیونکہ بذریعہ خط نکاح کی صورت یہ ہوتی ہے کہ احدالزوجین کو خط ملے تو وہ مجلس میں موجود گواہوں کے سامنے اس کو پڑھے یا اس کا مضمون ان کو بتلائے کہ فلاں نے مجھ سے نکاح کا پیغام دیا ہے، اس کے بعد اسی مجلس میں کہے کہ میں نے اس پیغام کو قبول کیا۔

 لما في فتح القدير:

 ينعقد النكاح بالكتاب كما ينعقد بالخطاب، وصورته أن يكتب إليها يخطبها، فإذا بلغها الكتاب أحضرت الشهود وقرأته عليهم وقالت زوجت نفسي منه. أو تقول إن فلانا قد كتب إلي يخطبني فاشهدوا أني زوجت نفسي منه (کتاب النکاح، 3/ 197 ط:دارالفكر)

الحاصل زیر بحث صورت میں نکاح نامہ پر صرف دستخط کرنے سے نکاح منعقد نہیں ہوا، مسماۃ کنول نورین دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہے

البتہ اگر دستخط سے پہلے قاضی نے خطبہ پڑھ کر لڑکی کے سرپرست کی اجازت کے ساتھ لڑکے کو مخاطب کر کے کہہ دیا کہ میں نے مسماۃ فلاں بنت فلاں کا نکاح اتنے حق مہر کے عوض آپ سے کردیا لڑکے نے کہہ دیا کہ مجھے قبول ہے تو نکاح منعقد ہوجائے گا اس صورت میں کسی کے دستخط کی ضرورت نہیں اور نہ ہی لڑکی سے قبول کرانے کی ضرورت ہوگی۔

 فقط واللہ اعلم

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 522202610311

فتویٰ آن لائن


جائز و ناجائز معاملات