بہن کے انتقال پر بھائی بہنوں میں وراثت کی تقسیم
سوال: میری بہن فوت ہوگئیں ہیں، متوفیہ کی اولاد نہیں ہے،اور شوہر اور والدین کا انتقال مرحومہ کی زندگی میں ہی ہوگیا تھا۔جبکہ ورثاء میں تین بھائی اور پانچ بہنیں ہیں۔ جن میں سےدو بہنوں کا انتقال مرحومہ سے پہلے ہوچکا تھا۔باقی تین زندہ ہیں۔ دونوں فوت شدہ بہنوں کی اولاد ہے۔ہر ایک کا شرعی حصہ بتا دیں۔
جواب:
مسئلہ9 ثمینہ (متوفیہ)
میتـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
بھائی۔ بھائی۔ بھائی۔ بہن ۔بہن ۔بہن
2۔ 2 ۔2 ۔1 ۔1۔ 1
بر تقدیرِ صحتِ واقعہ صورت مسئولہ میں بعد ادائے قرض و وصیتِ جائزہ متوفیہ کا کل ترکہ 9 حصے ہو کر حسبِ تفصیلِ بالا تقسیم ہوگا، ہر وارث کا حصہ اس کے نام کے نیچے درج ہے۔
ہر بہن کو ایک ایک اور ہر بھائی کو دو دو حصے ملیں گے۔
جو بہنیں مرحومہ کی زندگی میں وفات پاگئیں تھیں، وہ اور ان کی ورثاء ثمینہ کے ترکہ سے شرعاًمحروم رہیں گے۔
لما في رد المحتار:
(قوله إنما يكون بعد الموت) لأن كونهم ورثة لا يتحقق إلا بعد موت المورث
(الرد مع الدر، کتاب الفرائض، 6 / 687 ط: دارالفكر)
فقط واللہ اعلم
فقط واللہ اعلم
فتوی نمبر : 304202610187
فتویٰ آن لائن