info@fatwaaonline.com.pk
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
فتویٰ آن لائن

فتویٰ آن لائن

دارالافتاء





ترکہ کی تقسیم سے قبل وارث کو دیا گیا سامان کس کا شمار ہوگا؟


سوال: میرے نانا کا انتقال ہوا، ورثاء میں ایک بیوہ، تین بیٹےاور دو بیٹیاں تھیں۔۔۔ نانا کے ترکہ میں نقدی تقریباً 57،000روپے اور ساڑهے تين مرلے رہائشی مکان ہے، منجملہ ترکہ میں ایک پستول بھی تھا، جس کو نانی نے مجھے(مسمی حماد) کو ماموں سے پوچھ کر دیا تھا، اور میں نے وہ لے لیا تھا۔۔۔ اب بعض ورثاء کہتے ہیں کہ یہ وراثت میں داخل ہے۔۔۔ آیا یہ پستول شرعاً کس کا ہے؟جبکہ نانی وفات پا گئی ہیں۔۔۔ اور نانی کے مجھے پستول دینے پر ماموں اور میرا بھائی گواہ ہیں۔ جزاكم الله خيراً


جواب:

بر تقدیرِ صحتِ واقعہ صورتِ مسئولہ میں ترکہ کی تقسیم سے پہلے نانی کا پستول کسی کو دینا شرعاً درست نہ تھا، تاہم نانی نے دے دیا اور اب وہ وفات پاچکی ہیں تو یہ پستول نانی کے حصہ سے شمار ہوکر سائل کی ملکیت ہے؛ کیونکہ ھبہ (گفٹ) مکمل ہوچکا ہے۔لہٰذا ورثاء کا سائل سے پستول کا مطالبہ کرنا شرعاً درست نہیں۔

الفتاوى الهندية:

 ولا يتم حكم الهبة إلا مقبوضة

 (كتاب الهبة، الباب الثاني فيما يجوز من الهبة، 4/ 377 ط: دارالكتب العلمية)

 فقط واللہ اعلم

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 304202610202

فتویٰ آن لائن


ترکہ کی تقسیم سے قبل وارث کو دیا گیا پستول کس کا شمار ہوگا؟ #وراثت #ہبہ #ترکہ #شرعی_حکم #اسلامی_فقہ