اولاد کے نام رجسٹری شدہ مکان کی فروخت اور کمائی کے دعویٰ کا حکم
سوال: من مسمیٰ محمد بلال نے ایک پلاٹ اپنی سالیؤں سے تقریباً چھ سال پہلے خریدا، اس میں مکان بنا کر رہائش اختیار کرلی تھی، پھر ایک سال پہلے اس کی رجسٹری اپنے دوبیٹوں کے نام کرائی۔اور اپنی بیٹیوں کو کچھ نہیں دیا۔اب بیٹے اس کو فروخت کرنا چاہتے ہیں۔نیز بڑا بیٹا مسمیٰ محمد الیاس باہر کمانے گیا تھا، اس دوران وہ مجھے رقم بھیجتا تھااور کبھی اس نے یہ نہیں کہا کہ اس سے میرے لئے مکان خریدو، یہ میرے لئے مکان بناؤ وغیرہ، اب وہ کہتا ہے کہ مکان میری کمائی سے بنایا گیا ہے، اس لئے یہ صرف میرا ہے۔ آیا وہ فروخت کرسکتے ہیں؟بیٹے کی بات درست ہے؟
جواب:
واضح رہے کہ اپنی مملوکہ چیز دوسرے کو گفٹ کرنے کو شرعاً ھبہ کہتے ہیں اور ھبہ کے تام و مکمل ہونے کیلئے کچھ شرائط ہیں، مثلا ً موھوبہ چیز غیر موھوبہ کے ساتھ مشغول نہ ہو، بلکہ اس سے خالی کرکے ھبہ کرنا ضروری ہے:
جیساکہ تحفة الفقهاءمیں ہے:
ومنها أن تكون الهبة متميزة عن غير الموهوب وغير متصلة به ولا مشغولة بغير الموهوب
(كتاب الهبة، 3/ 162 ط: دار الكتب العلمية)
اور المبسوط للسرخسيؒ میں ہے:
لا يجوز فيهما؛ لأن الموهوب مشغول بما ليس بموهوب فهو كما لو وهب دارا فيها متاع الواهب
(كتاب الهبة، هبة العبد المأذون، 12/ 72 ط:دارالمعرفة)
صورتِ مسئولہ میں بیٹوں کو گفٹ کرتے وقت سائل (واھب) خود رہائش پذیر تھا، اس لئے یہ گفٹ شرعاً تام(مکمل) نہیں ہوا، بلکہ سائل کی ملکیت بدستور برقرار ہے۔ بیٹوں کو مکان بیچنے کا شرعاً اختیار نہیں ہے، اگر وہ فروخت کر بھی دیں تو ان پر شرعاً لازم ہے کہ ساری رقم سائل (والد) کو دیں۔
سائل اگر اپنے بیٹوں کو کچھ گفٹ کرنا چاہتا ہے تو بیٹیوں کو بھی اتنا دے، یا کم از کم اس سے آدھا ضرور دے۔ صرف بیٹوں کو دینا اور بیٹیوں کو محروم کرنا شرعاً گناہ ہے، آپﷺ نے اسے ظلم قرار دیا ہے۔
فقال له النبي صلى الله عليه وسلم: «أنحلت بنيك مثل ذلك؟» قال: لا قال: «فإني لا أشهد على الجور» (مستخرج أبي عوانة ،رقم الحدیث: 5674، 3/ 455 ط:دارالمعرفة)
باقی محمد الیاس(بیٹے) کا خط کشیدہ بات کہہ کر مکان پر ملکیت کا دعوی کرنا شرعاً غلط ہے؛کیونکہ جو رقم والد کو بھیجتا تھا، وہ والد کی ملکیت ہوگئی۔
فقط واللہ اعلم
فقط واللہ اعلم
فتوی نمبر : 304202610203
فتویٰ آن لائن