ایک فریق کی وفات کے بعد ٹھیکہ کے معاہدہ کی شرعی حیثیت
سوال: فریق اوّ ل (سائل) کا معاہدہ بابت ٹھیکہ زمین فریقِ آخر سے ہوا، جس میں طے ہوا کہ ۲۰۲۰ء کے بعد ٹھیکہ ۱۴۰،۰۰۰ ہوگا، پھرفریق دوم اللہ کو پیارے ہوگئے، پھر اس کے بیٹے نے کہا کہ ٹھیکہ بڑھاؤ، میں نے کہا کہ آپ مجھے حصے پر زمین دے دیں، لیکن انھوں نے زمین مجھ سے لیکر دوسرے فرد کودے دی۔آیا والد کا کیا ہوئے معاہدہ کی خلاف ورزی بیٹا کرسکتا ہے؟
جواب:
واضح رہے کہ فریقین میں سے ایک فوت ہوجائے تو آئندہ سال (جس کا ٹھیکہ متوفی نے وصول نہیں کیا تھا ) کا معاہدہ ختم ہوجاتا ہے۔
لما في فتح القدير للكمال ابن الهمامؒ:
وإذا مات أحد المتعاقدين بطلت المزارعة
(كتاب المزارعة، 9/ 473 ط:دارالفكر)
لہٰذا رواں سال مکمل ہونے تک تو زمین سائل کے پاس رہے گی ، اسی طرح آئندہ جتنے سال کے پیسے متوفی وصول کر چکا ہے ان سالوں میں بھی زمین متوفی کے پاس رہے گی ، لیکن جس سال کے پیسے متوفی نے وصول نہیں کیے ان سالوں کا معاہدہ متوفی کا بیٹا ختم کرنے اور دوسرے فرد کو زمین دینے کا مکمل اختیار ہے۔
فقط واللہ اعلم
فقط واللہ اعلم
فتوی نمبر : 304202610204
فتویٰ آن لائن