info@fatwaaonline.com.pk
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
فتویٰ آن لائن

فتویٰ آن لائن

دارالافتاء





وراثت میں بیٹوں اور بیٹیوں کے شرعی حصے اور وصیت کی شرعی حیثیت


سوال: ایک عورت کا سات سال قبل انتقال ہوا، ورثاء میں شوہر، پانچ بیٹے اور پانچ بیٹیاں زندہ ہیں۔ والدین کا انتقال مرحومہ کی زندگی میں ہی ہوگیا تھا۔مرحومہ نےوراثت میں دوکمرشل پلاٹ چھوڑےجن کی مالیت تقریباً ایک کروڑبیس لاکھ روپے(120،00،000)ہےاورایک پلاٹ تین مرلہ کا رہائشی پلاٹ چھوڑا، جس کی مالیت تقریباً پانچ لاکھ روپے(5،00،000)ہے۔ مرحومہ نے زبانی وصیت کی تھی کہ میرے مرنے کے بعد دونوں پلاٹ صرف میرے بیٹوں میں تقسیم کیے جائیں ، بیٹیوں کو نہ دئیے جائیں ۔ کیا یہ وصیت نافذ ہوگی ؟نیز مذکورہ بالا ورثاء کا کتنا کتنا حصہ بنتا ہے ؟


جواب:

مسئلہ4/60 مضروب15 ترکہ 00،000، 125 روپے

میتــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

شوہر۔ بیٹا۔ بیٹا۔ بیٹا۔ بیٹا۔ بیٹا ۔بیٹی ۔بیٹی ۔بیٹی۔ بیٹی۔ بیٹی

 1۔ 3

15 ۔6 ۔6 ۔6 ۔6 ۔6 ۔3 ۔3 ۔3 ۔3۔ 3

3125000 ۔1250000 ۔1250000 ۔1250000 ۔1250000۔ 1250000 ۔625000 ۔6۔25000 6۔25000 6۔25000۔ 625000

بر تقدیرِ صحتِ واقعہ صورت مسئولہ میں بعد ادائے قرض و وصیتِ جائزہ صغریٰ بیگم(مرحومہ) کا

 کل ترکہ 60 حصے ہو کر حسبِ تفصیلِ بالا تقسیم ہوگا، ہر وارث کا حصہ اس کے نام کے نیچے درج ہے۔

 واضح رہے کہ وارث کے حق میں شرعاً وصیت غیر معتبر ہوتی ہے، لہٰذا مرحومہ کی اپنے بیٹوں کے حق میں کی گئی وصیت پر عمل کرنا شرعاًلازم نہیں ہے۔

 لما في تحفة الفقهاء:

ومنها أن يكون الموصى له أجنبيا حتى أن الوصية للوارث لا تجوز إلا بإجازة الورثة

(كتاب الوصايا، 3/ 207 ط: دار الكتب العلمية)

 فقط واللہ اعلم

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 304202610197

فتویٰ آن لائن


وراثت میں بیٹوں اور بیٹیوں کے شرعی حصے اور وصیت کی شرعی حیثیت #وراثت #وصیت #شرعی_حصہ #اسلامی_فقہ #شوہر_بیٹے_بیٹیاں