نکاح کو طلاق سے مشروط کرنے والی جھوٹی قسم کا حکم اور اس کا حل
سوال: ایک لڑکا مدرسہ میں پڑھتا تھا اور اسی مدرسہ سے کبھی کبھی چوری بھی کرتا تھا اس لڑکے نے بڑی موٹر چوری کرنے کی کوشش کی مگر نا کام رہاپھرمدرسہ کے ناظم کو پتہ چل گیا پھر ناظم نے لڑکے سے پوچھا کہ تو نے چوری کی ہےیا نہیں لڑکےنے کہاکہ میں نے چوری نہیں کی اب مدرسہ کے ناظم نے لڑکے کوکہاکہ توں کلما کی قسم اٹھا کہ میں نے نہ ہی چوری کی اور نہ ہی میں نے چوری کی کوشش کی اس لڑکے کو کلما کی قسم کا علم نہیں تھا اب ناظم نے اس کو بتایا کہ اگر توں کلما کی قسم اٹھائے گا تو ساری زندگی نکاح نہیں کرسکے گااب لڑکے نے شرمساری سے بچتے ہوئے کلما کی قسم اٹھالی جبکہ یہ لڑکا جھوٹ پر قسم اٹھا رہا ہے ، کلما کی قسم ان الفاظ کے ساتھ اٹھائی ۔میں کلما کی قسم اٹھاتا ہوں کہ میں نے نہ ہی چوری کی اورنہ ہی میں نے چوری کی کوشش کی ۔اگر چوری کی ہے یا کوشش کی چوری کرنے کی تومیں جب بھی کسی عورت سےنکاح کروں تو میری بیوی کو طلاق ہے ۔ اب یہ لڑکا نکاح کرنا چاہتا ہے تو کوئی ایسا طریقہ بتائیں کہ اس کا نکاح باقی رہ سکے اور کلماکی قسم کی وجہ سےطلاق واقع نہ اور یہ لڑکا زنا سے بچ جائے۔
جواب:
واضح رہے کہ جھوٹ بولنا کبیرہ گناہ ہے اور جھوٹی قسم کھانا اس سے بھی بڑاگناہ ہے چنانچہ آپﷺ نے ارشاد فرمایا: "الکبائر الاشراک باللہ وعقوق الوالدین وشهادۃ الزور" ترجمہ :" کبیرہ گناہ اللہ تعالی کےساتھ شریک ٹھرانا ہے، اور والدین کی نافرمانی کرنا ہے اور جھوٹی گوہی دیناہے "لہذا سائل اپنی جھوٹی قسم کھانے پر خوب گڑگڑاکر اللہ تعالیٰ سے معافی مانگےاور سابقہ زمانہ میں جتنے مال کی چوری کی تھی ،اتنے پیسے اب مالکان کو ھدیہ کہ کردے دے یا انکے گھر پہنچادے،جن مالکان کا علم نہیں ان کی طرف سے نیت کرکے رقم صدقہ کردے۔جیساکہ ردالمحتار میں ہے:
"لان سبیل الکسب الخبیث التصدق اذا تعذرالردعلی صاحبه"
(الرد مع الدر،کتاب الحظر والاباحۃ،ج6 ص 385 ط:سعيد)
باقی خط کشیدہ الفاظ سے قسم کھانے سے قسم منعقد ہوچکی ہے،لہذا اب یہ جب بھی کسی خاتون سے نکاح کرے گا تو نکاح کرنےپر اس عورت اس کی بیوی کوطلاق واقع ہوجائے گی ۔
اب اس سے بچنے کا حیلہ یہ ہے کہ حالف کے علاوہ کوئی شخص حالف کے کہے بغیر از خود حالف کا نکاح کسی خاتون سے کردے اور جب حالف کو نکاح کی خبر ملے تو یہ زبان "خیر مبارک "یا "قبول ہے"وغیرہ کچھ نہ کہے بلکہ اس خاتون کے پاس جاکر شب باشی کرلے یاحق مہر خاموشی سے دےدےتو اس طرح اس کا نکاح ہوجائے گااور طلاق واقع نہ ہوگی ۔جیساکہ الدرالمختار میں ہے:
"والحیلۃ فیہ مافی البحر من انہ یزوجہ الفضولی ویجوز بالفعل ،فاجاز نکاح فضولی بالفعل لایحنث"
(کتاب النکاح ،ج 3 ص 842 ،ط :سعید)
فقط واللہ اعلم
فقط واللہ اعلم
فتوی نمبر : 304202610200
فتویٰ آن لائن