تین طلاقوں کی شرعی حیثیت
سوال: میرے شوہرکچھ نفسیاتی مریض ہیں، اس سے کسی بات پر جھگڑا ہوا تو اس نے 21-11-2019 میں ایک طلاق کاغذ پر لکھ کر اس کی تصویر بنا کر واٹس ایپ کی، پھر رجوع ہوگیا، پھر دوبارہ جھگڑا ہوا تو 09-02-2022 کو دوبارہ کاغذ پر طلاق لکھ کر بھیجی۔پھر رجوع ہوگیا، پھر دوبارہ جھگڑا ہوا تو اب 01-08-2022 کو کاغذ پر لکھا "میں محمد نعیم شوہر ثمینہ نورین اس کو تیسری طلاق دیتا ہوں" اس کی تصویر بنا کر واٹس ایپ کی۔ آیا اب رجوع ہوسکتا ہے؟کتنی طلاقیں واقع ہوچکی ہیں؟
جواب:
بر تقدیرِ صحتِ واقعہ صورتِ مسئولہ میں تین طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے، اب وہ شخص مذکور کے گھر آباد نہیں ہوسکتی، نہ رجوع كی اجازت ہے اور نہ ہی عقدِ جدید کافی ہے۔ لقوله تعالى: فان طلقها فلا تحل له من بعد۔۔۔ (البقرة:230)
لما في الهداية:
وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة أو ثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها "
(كتاب الطلاق، 2/258، 257 ط: دار احياء التراث العربي)
فقط واللہ اعلم
فقط واللہ اعلم
فتوی نمبر : 307202610212
فتویٰ آن لائن