info@fatwaaonline.com.pk
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
فتویٰ آن لائن

فتویٰ آن لائن

دارالافتاء





طلاق یا علیحدگی میں حقِ مہر کی واپسی کا شرعی حکم


سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میری صدف کے ساتھ شادی ہوئی تھی، لیکن آئے روز لڑائیاں رہتی تھیں۔ بڑے بزرگ پنچائیت کیلئے آئے اور انھوں نے لڑکی کو اکیلے میں پوچھا کہ اب تم یہاں رہنا چاہتی ہو یا نہیں؟ تو لڑکی نے ساتھ رہنے سے انکار کردیا۔ اور یہ بات لڑکی کی بہنوں اور بھابی نے بھی سنی۔ پھر لڑکی اپنا سامان پیٹی میں رکھ کر تالا لگا کرچابی ساتھ لے کر چلی گئی۔ اب وہ کہتے ہیں کہ فیصلہ دو اور حق مہر بھی دو۔ آیا ان کا یہ مطالبہ کرنا شرعاً درست ہے؟


جواب:

بر تقدیر صحتِ واقعہ صورتِ مسئولہ میں اگر عورت طلاق کا مطالبہ کرے گی اور شوہر حق مہر کی واپسی کی شرط لگا دے تو اسے حقِ مہر واپس کرنا پڑے گا، جیساکہ حضرت جمیلہؓ بنت سلول نے حضرت ثابتؓ بن قیس سے طلاق چاہی تو آپﷺ نے حق مہر میں ملے باغ کے واپس کرنے کا فرمایا۔

عن ابن عباس، قال: جاءت امرأة ثابت بن قيس بن شماس إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالت: يا رسول الله، ما أنقم على ثابت في دين ولا خلق، غير أني أخاف الكفر في الإسلام؟ " فقال: «أتردين عليه حديقته؟» قالت: «نعم، فأمرها أن ترد عليه، ففرق بينهما»

 (السنن الصغير للبيهقيؒ، كتاب الخلع والطلاق، باب الوجه الذي تحل به الفدية، 3/ 105 ط: جامعة الدراسات الإسلامية)

 بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع:

 وإن كان النشوز من قبلها فلا بأس بأن يأخذ منها شيئا قدر المهر۔۔۔ وأما الزيادة على قدر المهر ففيها روايتان ذكر في كتاب الطلاق أنها مكروهة۔۔۔ ونحن به نقول: إنه يحل له قدر ما آتاها

 (كتاب الطلاق، فصل في حكم الخلع، 3/ 150، ط: دار الكتب العلمية)

 الفتاوى الهندية:

 وإن كان النشوز من قبلها كرهنا له أن يأخذ أكثر مما أعطاها من المهر

 (كتاب الطلاق، الباب الثامن في الخلع، الفصل الأول في شرائط الخلع، 1/ 488 ط: دار الفكر)

البتہ اگر مرد کی طرف سے زیادتی ہو جس کی وجہ سے عورت علیحدگی  چاہتی  ہوتو مرد کیلئے حق مہر واپس لینا مکروہ ہے۔ 

 فقط واللہ اعلم

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 307202610213

فتویٰ آن لائن


طلاق یا علیحدگی میں حقِ مہر کی واپسی کا شرعی حکم #طلاق #خلع #حق_مہر #عورت_کے_حقوق #اسلامی_فقہ