ادارے میں نمازِ جمعہ قائم کرنے کا مسئلہ
سوال: میں ایک ادارہ میں امامت کراتا ہوں، یہاں ادارہ میں ایک منزل نماز کیلئے مختص ہے، اس میں اتوار، عیدین ، ودیگر تعطیلات کے علاوہ عام دنوں میں نمازِ فجر کے علاوہ نمازیں ادا کی جاتی ہیں۔۔۔ انتظامیہ کا اس جگہ نمازِ جمعہ قائم کرنے کا ارادہ ہے، آیا نمازِ جمعہ قائم کرسکتے ہیں؟ جزاكم الله خيراً
جواب:
واضح رہے کہ جمعہ کے قائم کرنے میں شریعت کا مزاج یہ ہے کہ بیک وقت ایک ہی جگہ میں مسلمانوں کا عظیم اجتماع ہو، اسی لئے بہت سے جلیل القدرفقہاء کرامؒ نے ایک ہی شہر میں متعدد جمعے قائم کرنے سے منع کیا ہے، لیکن متاخرین فقہاء کرامؒ نے آبادیوں کے بڑھنے کی وجہ سے ضرورت کی وجہ سے ایک شہر میں متعدد جمعے قائم کرنے کی اجازت دی ہے۔
اس تفصیل سے معلوم ہوگیا کہ مذکورہ ادارہ کی انتظامیہ کا ادارہ کی مختص کردہ منزل میں جمعہ شروع کرنا شریعت کے مزاجِ اجتماعیت کے خلاف ہے۔۔۔ نیز اس صورت میں مسجد میں نماز پڑھنے کے ثواب سے بھی محرومی ہوگی، جو کہ جمعہ پڑھنے والوں کے ثواب میں کمی کا باعث ہوگا۔لہٰذا یہاں جمعہ قائم کرنے کے بجائے قریبی جامع مسجد میں نمازِ جمعہ ادا کی جائے۔
لما قال ابن عابدينؒ:
بأن العلة اختلاف العلماء في جوازها إذا تعددت وفيه شبهة قوية؛ لأن عدم الجواز حينئذ مروي عن أبي حنيفة واختاره الطحاوي والتمرتاشي وصاحب المختار وجعله العتابي الأظهر، وهو مذهب الشافعي والمشهور عن مالك وإحدى الروايتين عن أحمد كما ذكره المقدسي في نور الشمعة، وقد علمت أن قول البدائع أن ظاهر الرواية عدم الجواز في أكثر موضعين قال في النهر، وفي الحاوي القدسي، وعليه الفتوى وفي التكملة للرازي وبه نأخذ
(منحة الخالق على البحر، كتاب الصلاة، باب الجمعة، 2/ 154 ط: دارالكتاب الإسلامي)
ولما في الدر المختار:
(وتؤدى في مصر واحد بمواضع كثيرة) مطلقا على المذهب وعليه الفتوى شرح المجمع للعيني
(الدر مع الرد، كتاب الصلاة، باب الجمعة، 2/ 144 ط: دارالفكر)
فقط واللہ اعلم
فقط واللہ اعلم
فتوی نمبر : 307202610214
فتویٰ آن لائن