اسلام میں پالتو کتے رکھنے کی حدود اور شرعی رہنمائی
سوال: کتا گھر میں رکھنے کے بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے؟جائز ہے یا نہیں؟
جواب:
واضح رہے کہ آپﷺ نے عند الضرورت تین طرح کے کتوں کے رکھنے کی گنجائش دی ہے، ایک کھیت اور ریوڑ کی حفاظت کیلئے، دوسرا گھر کی رکھوالی کیلئے، تیسراشکار کیلئے۔
عن عبد الله بن مغفل، قال: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم -: "لولا أن الكلاب أمة من الأمم لأمرت بقتلها، فاقتلوا منها الأسود البهيم، وما من قوم اتخذوا كلبا، إلا كلب ماشية أو كلب صيد أو كلب حرث، إلا نقص من أجورهم كل يوم قيراطان"
(سنن ابن ماجه، أبواب الصيد، باب النهي عن اقتناء الكلب، رقم الحديث:3205 4/ 364 ط: :دار الرسالة العالمية)
ان تین طرح کے کتوں کے ماسوا پالنے پر دو وعیدیں ارشاد فرمائی، ایک یہ کہ رحمت کے فرشتے اس کے گھر میں داخل نہیں ہوتے، دوسرا یہ کہ اس کے نامہ اعمال سے روزانہ ایک دوقیراط ثواب کم کردیا جاتا ہے۔
عن أبي هريرة، عن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: "من اتخذ كلبا إلا كلب ماشية أو صيد أو زرع انتقص من أجره كل يوم قيراط"
(سنن أبي داود، كتاب الصيد، باب في اتخاذ الكلب للصيد، 4/ 465 رقم الحديث:2844 ط:دار الرسالة العالمية)
عن ابن عمر، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من اقتنى كلبا إلا كلب ماشية، أو ضار، نقص من عمله كل يوم قيراطان»
(صحيح مسلم، كتاب المساقاة، باب الأمر بقتل الكلاب، رقم الحديث:1574، 3/ 1201 ط:دار احياء التراث العربي)
مذکورہ بالا غیر ملکی کتے بظاہر مذکورہ بالا مقاصد پورا نہیں کرتے ہیں اس لئے ان کو پالنے کی اجازت نہیں۔لہٰذا ان کی خریدوفروخت بھی جائز نہیں ہے۔
لما في المبسوط للسرخسيؒ:
وكانت الكلاب فيهم تؤذي الضيفان والغرباء فنهوا عن اقتنائها فشق ذلك عليهم فأمروا بقتل الكلاب، ونهوا عن بيعها تحقيقا للزجر عن العادة المألوفة، ثم رخص لهم بعد ذلك في ثمن منتفعا به من الكلاب، وهو كلب الصيد والحرث والماشية
(كتاب الصيد، ذكاة السمك والجراد، 11/ 235 ط:دارالمعرفة)
فقط واللہ اعلم
فقط واللہ اعلم
فتوی نمبر : 522202610315
فتویٰ آن لائن