لے پالک بیٹی کی وراثت اور دس مرلہ جائیداد کی شرعی تقسیم
سوال: میرے والد ’’ناصر‘‘کا انتقال ہوچکا ہے، ان کے ورثاء میں ہم دو بیٹے، چار بیٹیاں ہیں۔ والد مرحوم کے والدین پہلے ہی وفات پاگئے تھے۔ نیز متوفی کی بیوی یعنی ہماری والدہ ’’ناہید‘‘کا انتقال بعد میں ہوا، ان کے ورثاء بھی یہی ہیں (یعنی دو بیٹے اور چار بیٹیاں ہیں) بعد ہماری ایک بہن خالدہ کا بھی کا انتقال ہوگیا) ۔خالدہ کا شوہربھی پہلے وفات پاگیا، اس (خالدہ) کے ورثاء بھی یہی دو بھائی اور تین بہنیں ہیں۔البتہ اس کی ایک لے پالک بیٹی ’’روبینہ‘‘ بھی ہے ۔ ہمارے والے کی جائیداد کیسے تقسیم ہوگی؟ خالدہ کی لے پالک بیٹی ’’روبینہ ‘‘ کو کتنا حصہ جائے گا؟ بعض لوگ کہتے ہیں کہ اگر ’’روبینہ ‘‘کے کاغذات میں اس کی والدہ کے طور پر ’’خالدہ‘‘ کا ہے تو اس کو بھی بیٹی والا حصہ جائے گا۔ درست مسئلہ کی رہنمائی فرمائیں۔
جواب:
مسئلہ7 محمد ناصر(متوفی)
میتـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
بیٹا۔ بیٹا۔ بیٹی۔ بیٹی۔ بیٹی
2 ۔2۔ 1۔ 1 ۔1
بر تقدیرِ صحتِ واقعہ صورت مسئولہ میں بعد ادائے قرض و وصیتِ جائزہ محمد ناصر(مرحوم) کاکل ترکہ7(سات) حصے ہو کر حسبِ تفصیلِ بالا تقسیم ہوگا، ہر وارث کا حصہ اس کے نام کے نیچے درج ہے۔
متوفی کی بیوہ ’’ناہید ‘‘اور بیٹی’’خالدہ ‘‘کے ورثاء بھی متوفی کے یہی دو بیٹے تین بیٹیاں ہیں، اس لئے بیوہ اور بیٹی کو تخریج سے خارج دیا۔
باقی ’’روبینہ ‘‘ چونکہ ’’خالدہ‘‘کی لے پالک بیٹی ہے، اس لئے وہ ’’خالدہ‘‘ اور اس کے شوہر کے ترکہ سے شرعاً محروم رہے گی، اگر چہ سرکاری کاغذات میں یہ اس کی والدہ شمار ہوتی ہو ۔
لما في الفتاوى الهندية:
ويستحق الإرث بإحدى خصال ثلاث: بالنسب وهو القرابة، والسبب وهو الزوجية، والولاء
(کتاب الفرائض، 6 / 447 ط: دارالمعرفة)
فقط واللہ اعلم
فقط واللہ اعلم
فتوی نمبر : 307202610208
فتویٰ آن لائن